منشیات اسمگلنگ کیس:لاہور ہائی کورٹ نے ماڈل ٹریزا کو بری کردیا

جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے اپیل پر سماعت کی

لاہور ہائیکورٹ  نے غیر ملکی ماڈل ٹریزا کومنشیات اسمگلنگ کیس میں بری کردیا ہے۔

جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے اپیل پر سماعت کی۔ عدالت نے ملزمہ کی ساڈھے8 سالہ قید کی سزا کو کالعدم قرار دے دیا۔ ملزمہ کے خلاف کسٹم حکام نے مقدمہ درج کیا تھا۔

اپریل 2019 میں منشیات اسمگلنگ کیس میں سزا يافتہ غير ملکی ماڈل ٹريزا السکووا نے سزا کا فيصلہ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ ٹریزا کا موقف تھا کہ ٹرائل کورٹ نے حقائق کے برعکس سزا سنائی، جس بیگ سے ہیروئن ملی وہ ان کا نہیں تھا۔

چیک ماڈل ٹريزا السکووا نے ہائی کورٹ میں سزاچیلنج کردی

ٹریزا نے درخواست میں تحریر کیا  کہ ان کے بیگ کو تبدیل کیا گیا،اے این ایف چیکنگ میں یہ بیگ نہیں تھا،بیگ کی تبدیلی کے بعد کسٹمز حکام کو منشیات ملی۔ انھوں نے استدعا کی کہ وہ بے قصور ہیں اورسزا کالعدم قرار دی جائے۔

واضح رہے کہ 20 مارچ 2019 کو منشیات اسمگلنگ کےجرم میں گرفتار غیر ملکی خاتون ماڈل ٹریزا السکووا کو عدالت نے 8 سال قید کی سزا سنا دی تھی ۔ ایک ملزم شواہد نہ ملنے پر بری کردیا تھا۔

منشیات اسمگلنگ کیس، گرفتار غیر ملکی ماڈل کو 8 سال قید کی سزا

 منشیات اسمگلنگ کیس کا فیصلہ 14 ماہ بعد سنایا گیا تھا۔ عدالتی فیصلے کے مطابق ٹریزا پر ہیروئن کی اسمگلنگ کا جرم ثابت ہوا تھا اور انھیں 8 سال اور 8 ماہ جیل میں گزارنا تھے۔غیر ملکی ماڈل کو قید سمیت 1 لاکھ 13 ہزار روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی تھی۔

اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار چیک ریپبلک کی خاتون جیل منتقل

چیک ریپبلک کی ماڈل 10 جنوری 2018 کو 9 کلو ہیروئین لے جانے کی کوشش میں گرفتار ہوئی تھیں۔ لاہور ایئرپورٹ پر دبئی سے آئرلینڈ جاتے ہوئے ان کے سامان کی چیکنگ کے دوران ہیروئین برآمد ہوئی تھی۔

Tabool ads will show in this div