معاہدے کی تفصیلات مناسب وقت پرقوم کو بتائیں گے،مفتی منیب

اہم پریس کانفرنس میں تفصیلات بتائی جائینگی

مفتی منیب الرحمان کا کہنا ہے کہ معاہدے کی تفصیلات سے فی الحال آگاہ نہیں کیا جا سکتا، مناسب وقت آنے پر اسے قوم کے سامنے رکھا جائے گا۔ معاملے پر کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو فعال ہوگئی ہے۔

حکومت اور تحریک لبیک پاکستان کے درمیان ہونے والے کامیاب معاہدے پر مفتی منیب الرحمان نے وفاقی وزرا کے ہمراہ اسلام آباد میں مشترکا پریس کانفرنس میں بتایا کہ مذاکرات سنجیدہ اور ذمہ دارانہ ماحول میں ہوئے، اس میں سب کا حصہ ہے۔ تمام قوم شکریہ کی حق دار ہے۔ یہ معاہدہ اس لیے ہوا کہ جوش ہر ہوش غالب آیا، جذباتیت پر حکمت غالب آئی، تمام علما نے حکمت کا مظاہرہ کیا اور اس کے نتیجے میں آج ہم آپ کے سامنے بیٹھے ہیں۔

مفتی منیب الرحمان کا کہنا تھا کہ معاہدے پر سعد رضوی کی حمایت حاصل ہے اور باہمی ماحول کے دوران دونوں فریقین کے درمیان معاہدے طے پا گیا ہے۔ آئندہ ہفتے میں اس کے مثبت نتائج سامنے آجائیں گے۔ یہ معاہدہ ملک کے بہترین مفاد میں کیا۔ اللہ کا شکر ہے کہ کسی بڑے واقعہ سے پہلے یہ معاہدہ ہوگیا۔ قومی میڈیا اس کو مثبت انداز میں پیش کرے۔ یہ معاہدہ کسی کی فتح یا شکست نہیں۔ معاہدے کی تفصیلات مناسب وقت پر سامنے آجائیں گی۔ ہم نے مصالحت کار کی حیثیت سے اپنا فرض انجام دیا۔

سما ڈیجیٹل سے گفتگو میں تحریک لبیک کے رہنما کا کہنا تھا کہ مفتی منیب رہنماؤں کی قیادت میں وزیر آباد روانہ ہوگئے ہیں، جہاں وہ معاہدے سے متعلق تفیصلات پیش کریں گے۔ معاہدہ 13 نکات پر مشتمل ہے۔

دوسری جانب ترجمان کالعدم ٹی ایل پی کے مطابق مارچ ختم کرنے یا نہ کرنے کا اعلان مجلسِ شوریٰ کے اراکین کی مشاورت کے بعد کیا جائے گا اور ہم امید کرتے ہیں اسٹیرنگ کمیٹی جلد سفارشات پر کام کرکے معاملات کو سلجھانے میں کامیاب ہو جائے گی۔

نئی کمیٹی قائم

معاہدے پر عمل درآمد کیلئے بنائی گئی کمیٹی کی تفصیلات بتاتے ہوئے مفتی منیب نے کہا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں اسٹیرنگ کمیٹی بنائی گئی ہے، جو اس کی نگرانی کرے گی۔ علی محمد اس کمیٹی کے سربراہ ہونگے، راجہ بشارت، سیکیرٹری داخلہ اور پنجاب صوبائی سیکریٹری وزارت داخلہ کمیٹی اس کے رکن ہونگے۔ ٹی ایل پی کی جانب سے مفتی غلام غوث بغدادی، انجینئر حفیظ اللہ علوی کمیٹی کے رکن ہوں گے، یہ کمیٹی آج سے ہی فعال ہوگئی ہے۔ یہ معاہدہ اس طرح کا نہیں ہے کہ صبح دستخط کیے جائیں اور شام میں اس سے انکار کردیا جائے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں تمام مسلمانوں کو یقین دلاتا ہوں کہ اس معاہدے سے خیر برآمد ہوگی۔ دیگر سیاسی اور مذہبی رہنماؤں نے اپنا حق ادا کیا۔ حکومتی صفوں میں بھی جن لوگوں نے طاقت کے استعمال سے اختلاف کیا اور معقول مشورہ دیا، میں ان سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کو مثبت انداز میں پیش کرنا چاہیے اور ملک میں امن و امان اور عافیت کے لیے جدوجہد کی گئی ہے اس میں میڈیا کو اپنا حصہ شامل کرنا چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین دلایا گیا ہے کہ معاہدے پر لفظ بہ لفظ عمل درآمد ہوگا۔

شاہ محمود قریشی

شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ علما کا بہت شکریہ کہ انہوں نے ملک کو ایک بڑے بحران سے بچایا ہے۔ ہم نے قومی سلامتی کمیٹی کے اہم اجلاس میں فیصلہ کیا کہ ہمیں مذاکرات اور بات چیت سے مسائل حل کرنے ہیں اور اسی مینڈیٹ کے تحت ہم آگے بڑھے۔

وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ بحران کے نتیجے میں لوگ شہید ہوئے، زخمی ہوئے اور اسپتالوں میں ایمرجنسی دیکھی۔ ملک کو ایک نقصان کا خدشہ تھا اگر یہ مسئلہ طویل ہوتا۔ تاہم ہم نے امن اور بہتری کا راستہ تلاش کیا۔ میں تمام اہلسنت اور تحریک لبیک کی قیادت کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ملک کو عدم استحکام کرنے والی طاقتیں یقینی طور پر متفرق ہوں گی۔

قبل ازیں اتوار 31 اکتوبر کی صبح کالعدم مذہبی اور سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان اور حکومتی ٹیم کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوئے۔

ٹی ایل پی اور حکومت کے درمیان کامیاب ہونے والے مذاکرات اور معاہدے سے متعلق حکومتی کمیٹی میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ، اسد قیصر اور علی محمد شامل تھے، تاہم مفتی منیب نے مشترکا پریس کانفرنس میں تفصیلات سے آگاہ کیا۔

دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات کیلئے تقریباً تمام سینیر ترین اور بااثر رہنماؤں کو راولپنڈی اور اسلام آباد لایا گیا۔

مفتی منیب الرحمان اور کراچی کے صنعتکار عقیل کریم ڈھیڈی کی آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے ملاقات کی تصویر سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی۔ تاہم یہ تصدیق نہیں ہوسکی کہ یہ تصویر کتنی پرانی ہے۔

مفتی منیب الرحمان نے اسلام آباد میں تنظیم کے زیر حراست رہنما سعد رضوی سے بھی ملاقات کی۔

سعد رضوی اور ٹی ایل پی کی شوریٰ کے تین سینیر ارکان مولانا شفیق امینی، انجینیر حفیظ اللہ اور پیر عنایت الحق کو براہ راست مذاکرات کے لیے لاہور سے اسلام آباد لایا گیا۔

موصول ابتدائی اطلاعات کے مطابق جی ٹی روڈ پر موجود مظاہرین کی واپسی سے معاہدے پر عمل درآمد شروع ہوگا، جس کے بعد فورتھ شیڈول، رہنماؤں کے خلاف مقدمے، کالعدم کا لفظ اور سربراہ تحریک سعد رضوی کی رہائی سے متعلق مرحلہ وار مطالبات پر بات چیت ہوگی۔

دونوں فریقین کے درمیان ایک بار پھر نیا معاہدے طے پایا ہے۔ تنظیم کے دیگر رہنماؤں کی اسلام آباد آمد پر مشترکا پریس کانفرنس میڈیا کے سامنے براہ راست نشر کی جائے گی۔

ترجمان ٹی ایل پی

سما ڈیجیٹل سے نامعلوم مقام پر موجود ٹی ایل پی رہنما کا کہنا تھا کہ معاملات ابھی چل رہے ہیں۔ مذاکرات کامیاب یا ناکام کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔ مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی کا اعلان قائدین کرینگے۔ امید کرتے ہیں جو بھی اعلان ہوگا وہ اسلام اور پاکستان کے مفاد میں ہوگا۔

وزیراعظم اور علما ملاقات

قبل ازیں ہفتہ 30 اکتوبر کو کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) سے مذاکرات کے معاملے پر حکومت نے 12 رکنی کمیٹی بنائی۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ ریاست کی رٹ پر سمجھوتہ ناممکن ہے، امن اور سلامتی سب کے مفاد میں ہے، حکومت خون خرابہ نہیں چاہتی۔

وزیراعظم سے 31 سے زائد علماء نے ملاقات کی۔ ملاقات میں ثروت اعجاز قادری، پیر خالد سلطان باہو، پیر عبدالخالق، ڈاکٹر محمد زبیر، حامد سعید کاظمی، پیر محمد امین، پیر خواجہ غلام قطب فرید، پیر نظام سیالوی، صاحبزاہ حافظ حامد رضا ، مفتی وزیر قادر، میاں جلیل احمد شرقپوری، پیر مخدوم عباس بنگالی، پیر سید علی رضا بخاری، صاحبزادہ حسین رضا سمیت دیگر علماء بھی شریک تھے۔

ملاقات کے دوران وزیر داخلہ نے موجودہ ملکی صورتحال سے متعلق آگاہ کیا گیا، وزیراعظم نے رحمت اللعالمین اتھارٹی سے متعلق آگاہ کیا۔ ملاقات کے دوران کالعدم ٹی ایل پی کے احتجاج سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران وزیراعظم اور علماء کے درمیان اتفاق کیا گیا کہ ملک اس وقت متشدد صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات کے دوران علماء نے وفاقی وزراء کے بیانات پر اعتراضات کرتے ہوئے کہا کہ بیانات مذاکرات کو سبوتاژ کرسکتے ہیں، وزیراعظم وزراء کو اس معاملہ پر سخت بیانات دینے سے روکیں۔

ملاقات کے دوران علماء کرام نے سعد رضوی کی رہائی سے متعلق بات کی تو حکومت نے فیصلہ عدلیہ پر چھوڑ دیا۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر عدالتیں سعد رضوی کو رہا کرتی ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا، فرانس کے سفیر کو نکالنا مسئلے کا حل نہیں، دنیا کو توہین رسالتﷺ سے متعلق سمجھانا ہوگا، دنیا کو بتانا ہوگا توہین رسالت سے اربوں مسلمانوں کے دل دکھتے ہیں، عشق رسول سارے مسلمانوں میں موجود ہے، حکومت لانگ مارچ پر تشدد نہیں کرنا چاہتی، فائرنگ مظاہرین کی جانب سے کی گئی، پولیس نے تشدد کا راستہ نہیں اپنایا۔

احتجاج سے معیشت کو کتنا نقصان ہوا

پنجاب حکومت کے ترجمان حسان خاور کے مطابق ٹی ایل پی کے احتجاج سے ملکی معیشت کو اربوں کا نقصان ہوا ہے۔ دھرنے سے تاحال پونے 4 ارب کا نقصان ہو چکا ہے۔ کالعدم تنظیم 2017 سے تاحال 35 ارب سے زائد کا نقصان پہنچا چکی ہے، جب کہ مسلح افراد کی فائرنگ سے ڈیوٹی پر موجود 4 پولیس اہل کار شہید اور ڈھائی سو سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

مظاہرین نے تاحال تقریباً 360 گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچایا، سڑکوں کی بندش سےسبزیوں اور پھلوں کی منڈیوں تک ترسیل معطل ہے۔ اربوں کاسامان سڑکوں پر کھڑے ٹرکوں میں خراب ہو رہا ہے۔ شر پسند عناصر کے خلاف 620 ایف آئی آرز درج کی جا چکی ہیں۔

دریائے چناب کا پل دونوں اطراف سے بند

کالعدم تنظیم ٹی ایل پی کے لانگ مارچ کے معاملے پر دریائے چناب کے پل کو دونوں اطراف سے کنٹینر لگا کر بند کر دیا گیا۔ دریائے چناب سے 500 میٹر کے فاصلے پر رینجرز نے ریڈ لائن لگا دی، پل پر ہر طرح کی ٹریفک اور عوام کی آمد و رفت بند ہے۔

احتجاج کے سبب جی ٹی روڈ بھی جگہ جگہ سے بند ہے۔ گجرات، کھاریاں،سرائے عالمگیر اور جہلم کے زمینی راستے منقطع ہو کر رہ گئے۔ تعلیمی ادارے، مارکیٹیں اور بازار بند ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

اُدھر وزیر آباد میں کالعدم جماعت کے مظاہرین کے پڑاؤ کا آج دوسرا دن ہے جس کے باعث شہر کی طرف آنے جانے والے راستے بند ہیں، عوام کی روزمرہ زندگی کے معمولات مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔

Faizabad

TLP

SAAD RIZVI

Tabool ads will show in this div