افغانستان سے آخری یہودی خاتون کہاں گئی

وہ اسرائیل بھی جانے کی خواہشمند ہیں
بشکریہ ٹریبیون انڈیا
بشکریہ ٹریبیون انڈیا
[caption id="attachment_2423013" align="alignnone" width="900"] بشکریہ ٹریبیون انڈیا[/caption]

افغانستان میں طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد آخری یہودی خاتون بھی ملک چھوڑ کر چلی گئی۔ اس سے قبل زیبولون سمنٹوف افغانستان میں رہائش پذیر آخری یہودی مرد تھے۔ وہ کابل کی یہودی عبادت گاہ کے بھی واحد مکین تھے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سمنٹوف کی کزن، طووا مورادی کابل ہی میں پیدا ہوئیں اور اپنے اہل خانہ کے ہمراہ ابتدا ہی سے یہیں مقیم تھیں ، تاہم طالبان کے قبضے کے بعد انہوں نے اہلخانہ کے ہمراہ گزشتہ ہفتے ہی افغانستان کو ہمیشہ کیلئے الوداع کہہ دیا۔

Tova Moradi, 83, an Afghan Jewish woman who fled Kabul this month with relatives with the assistance of an Israeli aid group, speaks to the Associated Press at a resort which is accommodated Afghan refugees in Golem, 45 kilometres (30 miles) west of the capital Tirana, on Oct. 27, 2021. For years, Zebulon Simentov branded himself as the “last Jew of Afghanistan,” the sole remnant of a centuries-old community. He charged reporters for interviews and held court in Kabul’s only remaining synagogue. He left the country last month for Istanbul after the Taliban seized power.Now it appears he was not the last one. Simentov’s distant cousin, Tova Moradi, was born and raised in Kabul and lived there until last week, more than a month after Simentov departed in September. (AP Photo/Franc Zhurda)

خود کو افغانستان کے آخری یہودی کے طور پر متعارف کرانے والے زیبولون سمنٹوف صحافیوں سے انٹرویو کے دوران امدادی رقم بھی مانگا کرتے تھے۔ وہ ایک طویل عرصے سے اپنی اہلیہ کی جانب سے بار بار طلب کرنے کے باوجود طلاق دینے سے انکاری تھے۔ اسرائیلی ویزہ حاصل کرنے کے لئے گزشتہ دنوں انہوں نے بڑے تردد کے بعد بالآخر طلاق نامہ پر دستخط کر دیئے۔

اسرائیلی اخبار ہارٹز کے مطابق سمنٹوف نے جان کے خطرے کے پیش نظر خود کو افغانستان سے نکالنے میں مدد کرنے والے ریسکیو ورکرز کا ممنون ہونے کی بجائے ان سے بھی اس کام کے لئے معاوضہ طلب کیا تھا۔

سمنٹوف کے بعد اب ان کی ایک رشتہ دار طووا مورادی، ان کے جانے کے بعد ایک مہینے تک افغانستان میں ہی رہتی رہیں۔ تاہم جان کے خطرے کے پیش نظر طووا، ان کے بچوں اور دو درجن کے قریب پوتے پوتیوں نے گزشتہ ہفتوں کے دوران اسرائیلی امدادی گروپ اور کارکنوں کی مدد سے آخر کار البانیہ کے لئے اپنی نئی منزل کا آغاز کیا ہے۔

Tova Moradi, 83, an Afghan Jewish woman who fled Kabul this month with her relatives with the assistance of an Israeli aid group, speaks to the Associated Press at a resort which is accommodated Afghan refugees in Golem, 45 kilometers west of the capital Tirana in Albania on Oct. 27, 2021. (AP Photo/Franc Zhurda)

البانیہ کے شہر گولم میں سمندر کنارے کئی ریزورٹس میں قریباً دو ہزار افغان شہریوں کو عارضی رہائش دی گئی ہے۔ انہیں میں سے ایک کوارٹر میں طووا بھی رہ رہی ہیں۔ اے پی سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ مجھے اپنے ملک سے بہت پیار تھا، بہت زیادہ۔ مگر اپنے بچوں کی جان بچانے کے لئے مجھے وہاں سے نکلنا پڑا۔

وہ اپنے رشتے دار سمنٹوف سے عمر میں 14 سال بڑی ہیں۔ طووا مورادی کابل کے یہودی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ طووا اپنے 9 بھائی بہنوں کے ساتھ افغانستان میں ہی پلی بڑھیں۔ اس وقت وہ 83 برس کی ہیں۔ 16 سال کی عمر میں طووا نے گھر سے فرار ہو کر ایک مسلمان شخص سے شادی کی تھی مگر اپنا مذہب کبھی تبدیل نہیں کیا۔ اس دوران طووا یہودی روایات پر عمل کرتی رہیں اور ان کے پڑوسی بھی انہیں بطور یہودی ہی جانتے تھے۔

Herat's restored synagogues reveal Afghanistan's Jewish past | Religion  News | Al Jazeera

طووا کے والدین اور دیگر بھائی بہن 60 اور 80 کی دہائی میں ملک چھوڑ گئے تھے جب کہ طووا کے 4 بچے طالبان کے پہلے دور حکومت میں کینیڈا ہجرت کر گئے تھے۔ طووا کے مطابق غیر مذہب میں شادی کرنے کے باوجود وہ اپنے کئی رشہ داروں سے رابطے میں رہیں۔

طووا کے والدین یروشلم میں دفن ہیں جب کہ ان کے کئی بھائی بہن اپنے خاندانوں کے ساتھ اسرائیل میں بسے ہوئے ہیں۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ طووا کی اپنی کچھ بہنوں سے گزشتہ 60 سال میں کوئی بات چیت نہیں ہو پائی تھی۔ تاہم چند ہفتوں قبل ان کا اپنے خاندان سے وڈیو کال پر رابطہ ہوا۔ انہوں نے ایک طویل عرصے کے بعد نہ صرف اپنی بہنوں کو دیکھا بلکہ اپنے بھانجے بھانجیوں سے بھی بات چیت کی۔

اپنے رشتہ داروں سے اس وڈیو ملاقات میں طووا نے زندگی کو نئے طریقے سے دیکھا اور وہ بہت خوش ہوئیں۔ طووا اس وقت اپنے چھ گھر والوں کے ساتھ البنایہ میں ہیں جب کہ ان کے گھر کے باقی 25 افراد اس وقت ابو ظہبی میں عارضی طور پر مقیم ہیں۔

طووا کے کینیڈا میں مقیم بچوں اور یہودی رضاکاروں کی کوشش ہے کہ طووا اور ان کے پورے خاندان کو کسی طرح کینیڈا میں ہی مستقل سکونت دلائی جائے۔ تاہم، طووا اسرائیل بھی جانا چاہتی ہیں تاکہ اپنے بھائی بہنوں سے مل سکیں اور اپنے والدین کی قبر پر جا کر دعا کر سکیں۔

Albania

Tabool ads will show in this div