پہلی جنگ عظیم کا فوجی موت کے100 سال بعد سپردخاک

رابرٹ کک کا انتقال 2 مئی 1915 کو ہوا تھا

پہلی جنگ عظیم میں ہلاک ہونے والے برطانوی فوجی کو موت کے 100 سال بعد بلجیم میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق لانس کارپورل رابرٹ کک کا انتقال 2 مئی 1915 کو ہوا تھا ان کی عمر 38 برس تھی ،وہ ان ہزاروں فوجیوں میں شامل تھے جو یپریس قصبے کے ارد گرد شدید لڑائی کے دوران اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔

وہ بشپ ولٹن میں 1876 میں پیدا ہوئے تھے، انہیں بدھ کی سہ پہر کو کامن ویلتھ وار گریز کمیشن کے نیو آئرش فارم قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔

انہیں جنگی جاسوس کے نام سے بھی جانا جاتا ہے تاہم ماہرین کی جانب سے شناخت کے بعد لانس کارپورل رابرٹ کک کو مکمل فوجی اعزازات سے نوازا گیا۔

 انہوں نے دوسری بٹالین دی ایسیکس رجمنٹ کے ساتھ خدمات انجام دیں جبکہ انہوں نے جنوبی افریقہ میں ہونے والی بوئر جنگ میں بھی خدمات انجام دی تھیں۔

ان کی لاش بھی بہت سے دوسرے سپاہیوں کی طرح ایک صدی سے لاپتہ تھی لیکن ان کا نام مینن گیٹ کی یادگار پر درج 54,000 افراد میں شامل تھا۔

لاش کی باقیات کے پاس سے اسیکس رجمنٹ کی ٹوپی کا بیج اور ایک میڈل بھی ملا جس کی ان کی شناخت ہوئی ۔

سال 2014 اور 2015 کے درمیان بھی تعمیراتی کام کے دوران 24 فوجیوں کی باقیات ملی تھیں۔

وزارت دفاع کے جوائنٹ کیزولٹی اینڈ کمپیشنیٹ سینٹر (جے سی سی سی) کی تحقیقات کے بعد ایک فوجی کے علاوہ باقی تمام کو سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔

Lance Cpl Robert Cook

ٖFirst world war

Tabool ads will show in this div