جھنڈے کاتنازعہ: طالبان کی نافرمانی افغان کرکٹ ٹیم کومہنگی پڑنےکاخدشہ

ٹیم واپسی پرہماراجھنڈا چومےبغیرجہازسےاترنہیں پائےگی،طالب رہنما

افغانستان میں طالبان کے دوبارہ برسراقتدار آنے کے بعد سے یہ بات زیربحث ہے کہ ملک کا سرکاری پرچم کون سا ہونا چاہیے۔

اسلامی جمہوری افغانستان کے نام سے گزشتہ 20 سال سے قائم حکومت 3 رنگوں والا پرچم استعمال کرتی تھی لیکن طالبان تحریک کا جھنڈا سفید رنگ کا ہے اور اس پر کلمہ طیبہ بھی تحریر ہے جسے طالبان رہنما اب سرکاری جھنڈا قرار دینا چاہتے ہیں۔

اشرف غنی حکومت کے خاتمے کے بعد سے افغانستان کے مخلتف حصوں میں عوام کی جانب سے سابقہ پرچم کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے اور ان مطالبات کے حق میں احتجاج اور پر تشدد واقعات میں ملک کے مختلف حصوں میں طالبان جنگجوؤں کے ہاتھوں متعدد افراد بھی مارے جا چکے ہیں۔

حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے افغانستان کے دانشور طبقے نے بھی طالبان سے درخواست کی کہ وہ پرانے پرچم کو ہٹانے کے بجائے اسے اسی طرح رہنے دیں۔ اس پر طالبان نے پرانے جھنڈے کو قبول تو نہیں کیا لیکن انہوں نے کم سے کم اس جھنڈے کو ہٹانے کا کام موخر کردیا تاہم اس کے باوجود طالبان کے بعض حامی انفرادی طور پر 3 رنگوں والے جھنڈوں کو ہٹانے کا کام کررہے ہیں، حال ہی میں کچھ طالبان جنگجو سابقہ افغان نیشنل آرمی کے جاں بحق اہلکاروں کی قبروں تک سے سہ رنگی پرچم کو ہٹاتے دیکھے گئے تھے جس پر سوشل میڈیا پر بھی خاصی تنقید ہوئی تھی۔

جھںڈے کے حوالے سے طالبان رہنماؤں کی جانب سے کچھ متوازن بیانات کے بعد اگرچہ یہ بات پس منظر میں چلی گئی تھی مگر اس بحث نے دوبارہ اس وقت شدت اختیار کی جب متحدہ امارت میں جاری کرکٹ کے ٹی 20 ورلڈ کپ میں افغانستان اور اسکاٹ لینڈ کرکٹ ٹیموں کے درمیان میچ کے موقعے پر سابقہ افغان حکومت کا سرکاری جھنڈا لہرایا گیا۔

اسکاٹ لینڈ کے خلاف میچ میں افغان کرکٹ ٹیم کے بہترین قرار دیے جانے والے کھلاڑی مجیب الرحمان کے بیان نے بھی جلتی پر تیل کا کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ "یہ تین رنگی جھنڈا ہمیں توانائی فراہم کرتا ہے۔ اپنے ہم وطنوں کے ہاتھ میں اپنے جھنڈے کو لہراتا ہوا دیکھ کر بے حد خوشی ہورہی ہے اور اس جھنڈے کو دیکھ کر تمام کھلاڑی خود اعتمادی محسوس کررہے ہیں۔

اگرچہ افغان کرکٹ ٹیم پرانی کٹ اور اسلامی جمہوری افغانستان کے نام سے ہی کھیل رہی ہے اور ان کو اجازت بھی طالبان حکومت کی جانب سے دی گئی ہے اور یہاں تک کہ طالبان نے سابقہ حکومت کے جاری کردہ پاسپورٹ کو بھی جائز قرار دیا ہے اور ملک کا پاسپورٹ آفس بھی تاحال سابقہ طرز کا ہی پاسپورٹ جاری کررہا ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ طالبان رہنماؤں کو بعض افغان کرکٹرز کے رویے اور بیانات گراں گزرے ہیں۔

افغان طالبان کے رہنما جنرل مبین خان نے مذکورہ بیانات کو سیاست قرار دیتے ہوئے کہا کہ کھیل سیاست کا حصہ نہیں ہے لیکن اگر کھلاڑی اسے سیاست کے لیے استعمال کریں گے تو پھر ہم دیکھتے ہیں کہ وہ آئندہ کیسے میدان میں اترتے ہیں۔

جنرل مبین خان کا کہنا تھا کہ ہم کھیلوں کے خلاف نہیں افغانستان میں کرکٹ اور کرکٹ بورڈ کی بنیاد امارت اسلامی کے ہی دور میں رکھی گئی تھی مگر اب ضرورت اس بات کی ہے کہ کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی امارت اسلامی افغانستان کی اطاعت کریں۔ یہاں ایک نظام حکومت ہے جس کا اپنا جھنڈا ہے اور ان کھلاڑیوں کو ہم نے باہر بھیجا ہے اشرف غنی نے نہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں موجودہ ٹیم میں شامل کھلاڑیوں سے بھی اچھے کھلاڑی موجود ہیں جنہیں ضرورت پڑنے پر ہم قومی ٹیم کے لیے سلیکٹ کرسکتے ہیں جو ہمارا ہی استحقاق ہے۔

جنرل مبین خان کا کہنا تھا کپ جب یہ لوگ کابل ایئرپورٹ پہنچیں گے تو پھر وہ دیکھیں گے  کہ کھلاڑی کون سا جھنڈا لہراتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایئرپورٹ پر ان کو سفید یعنی طالبان کے جھنڈے کو بوسہ دینا پڑے گا تب ہی وہ طیارے سے اتر پائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ہرکام بزور طاقت کیا ہے امریکا کو بھی اللہ کی مدد سے شکست دی اور اشرف غنی حکومت کو بھی بزور طاقت ہی صدارتی محل سے نکالا۔ اگر بات زبردستی کی ہوئی تو وہ طریقہ ہمیں بخوبی آتا ہے۔ طالب رہنما کا کہنا تھا کہ ہم انتخابات کے ذریعے اقتدار میں نہیں آئے کہ ہر کسی کے رائے کا احترام کرتے پھریں اس لیے کھلاڑیوں کو اس معاملے کو سائڈ پر ہی رکھنا چاہیے۔

خیال رہے کہ جنرل مبین خان کی یہ آڈیو گفتگو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے اور جب ایک ٹی وی پروگرام میں اس حوالے سے ان سے استفسار کیا گیا تو انہوں نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ گفتگو انہی کی ہے لیکن وہ ایک نجی گفتگو تھی جسے سوشل میڈیا پر اخلاقیات کے برخلاف وائرل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ میں افغان کرکٹ ٹیم کا احترام کرتا ہوں اور وہ ٹیم ہمارا قومی فخر ہے۔

طالبان حکومت کا موقف

جنرل مبین خان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے طالبان حکومت کے ثقافتی کمیشن کے رکن شہاب لیوال کا کہنا تھا کہ کرکٹ ٹیم کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم ان کے پیچھے کھڑے ہیں اور آپ لوگ افغانستان کا فخر ہیں۔

شہاب لیوال کا کہنا تھا یہ ہمارے کچھ جذباتی دوست ہیں جن کو گزشتہ طویل جنگ کے باعث افغانستان کے پرانے جھنڈے سے مسئلہ ہے لیکن یہ ان کی ذاتی رائے ہے جس کا ہم احترام کرتے ہیں مگر یہ سرکاری پالیسی نہیں ہے۔

انہوں نے افغان کرکٹ ٹیم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ امارت اسلامی کی حمایت اور مشاورت سے کھیلنے گئے ہیں اور حکومت آپ کے تحفظ اور آبرو کی ذمہ دار ہے آپ لوگوں کو کسی قسم کی پریشانی کی ضرورت نہیں ہے۔

شہاب لیوال کا کہنا تھا کہ قوم اور علماء کرام دعاگو ہیں کہ آپ لوگ ورلڈکپ جیت کر وطن واپس لوٹیں۔

افغانستان کے جھنڈے کی تاریخ

افغانستان کا قومی پرچم گزشتہ 100 برسوں کے دوران 18 مرتبہ تبديل کيا گيا ہے اور اس دوران قومی پرچم پر کئی رنگ آکر گزر گئے تاہم اب طالبان نے ارادہ کيا ہے کہ اسے سفيد رنگ ديا جائے جس پر کلمہ طيبہ لکھا ہو۔

جلال آباد ميں 19 اگست کو افغانستان کا موجودہ قومی پرچم ہٹائے جانے پر احتجاج ہوا تھا اور فائرنگ سے کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے تھے۔

تاہم یہ بات قابل ذکر ہے کہ افغانستان کا پرچم پہلی بار نہیں بدلا گیا جس طرح افغانستان پرکئی سپر پاور ہو گزرے مگر کوئی ٹھہر نہ سکا اسی طرح افغان قومی پرچم پربھی کئی رنگ آئے اور گئے مگر موجودہ دور میں طالبان نے اسے سفيد رنگ دیا ہے۔

سوسال پہلے جب افغانستان برطانيہ سے مکمل طورپر آزاد ہوا تب سے اب تک قومی پرچم ميں 18 بار تبدیل ہوچکا ہے۔

سب سے پہلے حبيب اللہ خان نے مکمل سياہ پرچم پرتلواريں اور مسجد کا نقش شامل کيا اورپھر کئی چھوٹی بڑی تراميم ہوئيں۔

حبيب اللہ کلکانی کے تحت پرچم ميں 3 رنگ شامل ہوگئے، سن 1974 میں ايک چيل پر پھيلائے پرچم پرآگئی تو سن 1978 ميں کميونسٹ حکومت کے بعد پرچم سرخ ہوگيا۔

سوويت يونين کی شکست کے بعد سن 1992 میں پرچم پرمسجد، گندم اور تلواريں پھرلوٹ آئيں۔

انيس سوچھيانوے ميں طالبان برسراقتدار آئے اور پرچم سفيد ہوگيا جس پرکلمہ طیبہ نقش تھا۔

پھر شمالی اتحاد سن 2001 ميں کابل پرحاکم ہوا اور پرچم سبز سفيد اور سياہ رنگوں ميں ڈھلا اور اس کے ایک سال بعد  ہی سال سرخ سبزاورسياہ ہوگيا۔

اور اب اتحادی فوج کے جانے کے بعد طالبان نے پھرسفيد پرچم متعارف کرواديا ہے۔

AFGHAN TALIBAN

afghan cricket team

AFGHAN national flag issue

Tabool ads will show in this div