پاکستان سے شکست کے بعد بھارت میں کشمیری طلباء پرحملے

مقامی افراد و سکھوں نے مسلمان طلبہ کی مدد کی،کشمیری طلبہ لیڈر
Kashmiri student along with other fellow students  sit inside a temporary cage during a sit-in demonstration against the  Indian government's move to revoke the special autonomy of the region guaranteed under Article 370 and 35A in New Delhi on September 10, 2019. (Photo by Sajjad HUSSAIN / AFP)
Kashmiri student along with other fellow students sit inside a temporary cage during a sit-in demonstration against the Indian government's move to revoke the special autonomy of the region guaranteed under Article 370 and 35A in New Delhi on September 10, 2019. (Photo by Sajjad HUSSAIN / AFP)

اتوار کی شب ٹی 20 ورلڈ کپ میچ میں پاکستان کے ہاتھوں بھارتی شکست کے بعد ہندوستان بھر میں تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ پر حملے شروع ہو گئے جن میں میں متعدد کشمیری طلبہ کے زخمی ہوگئے ہیں۔

کشمیر سے باہر بھارتی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ کو مختلف شہروں میں کبھی قوم پرستی، کبھی کشمیر کی آزادی تو کبھی کرکٹ میچ کے حوالے سے نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی بیشتر آبادی بھارت اور پاکستان کے درمیان میچ میں پاکستانی ٹیم کی حمایت کرتی ہے۔

ڈی ڈبلیو کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست پنجاب میں پولیس کے مطابق پہلا حملہ ضلع سنگرور میں واقع بھائی گرو داس انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں ہوا۔ کالج نے اس حملے سے متعلق ایک ویڈیو شیئر کی جس میں ہاسٹل کے اندر کشمیری طلبہ پر حملے کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اسی نوعیت کا دوسرا حملہ موہالی کے کھرار کی ریات بھارت یونیورسٹی میں ہوا اور وہاں بھی کشمیری طلبہ کو نشانہ بنایا گیا۔

کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی حکام سے کشمیری طلبہ کی مدد کی اپیل کی ہے۔

کشمیری طلبہ ایسوسی ایشن کے ترجمان ناصر کا کہنا ہے کہ جن کشمیری طلبہ پر حملہ ہوا انہیں مقامی لوگوں اور دیگر پنجابی طلبہ نے بچایا۔

ترجمان کے مطابق ریاست بہار، اتر پردیش اور ہریانہ کے طلبہ نے ان کے ہاسٹل کے کمروں میں گھس کر انہیں مارا پیٹا اور ہنگامہ آرائی کی۔

سنگرور کالج کے ایک طالب علم نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ ہاسٹل کی حفاظت کرنے والے گارڈز نے یو پی اور بہار کے طلبہ کو ان کے ہاسٹل میں اندر آنے کی اجازت دی جنہوں نے اندر داخل ہوتے ہی حملہ کر دیا۔

بھارتی میڈیا نے علاقے کے ایک سینئر پولیس افسر کے حوالے سے لکھا ہے کہ میچ کے دوران جب بھی پاکستانی کھلاڑی رن بنا رہے تھے اس وقت کشمیری طلبہ ان کی حمایت میں آواز بلند کر رہے تھے جبکہ اسی دوران آزادی کے نعرے بھی لگے۔

پولیس افسر کے مطابق جب میچ ختم ہوا تو یو پی اور بہار کے طلبہ کشمیری طلبہ کے کمروں میں گھس کر ان کے ساتھ مار پیٹ کی۔ اطلاعات کے مطابق لڑائی کے دوران سکھ طلبہ نے کشمیریوں کی مدد کی۔

Kashmiri students in India

Pakistan victory against India in T-20

Tabool ads will show in this div