سندھ ہائیکورٹ کادفاعی اداروں کےزیرانتظام اراضی کاکمرشل استعمال روکنےکاحکم

راشد منہاس روڈ کے نیوپلیکس سنیما کا کمرشل استعمال روکنے کا حکم

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/10/irfan-ul-haq.mp4"][/video] Supreme-Court-Karachi-3

سندھ ہائی کورٹ نے دفاعی اور رفاعی اراضی کو کمرشل مقاصد کے استعمال سے روک دیا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ میں دفاعی مقاصد کیلئے مختص اراضی پر شادی ہالز اور سنیما چلانے کے کیس کی سماعت ہوئی۔ دفاعی اداروں کے زیرانتظام شادی ہالز اور سنیما کے خلاف درخواست پر سندھ ہائیکورٹ نے حکم جاری کردیا۔عدالت نے شاہراہ فیصل پر فیلکن مال، راشد منہاس روڈ کے نیوپلیکس سنیما کا کمرشل استعمال روکنے کا حکم دے دیا۔

اس کےعلاوہ سندھ ہائی کورٹ نے 19  شادی ہالز اورمارکیز کے کمرشل استعمال سے روک دیا۔ عدالت نے رفاعی پلاٹوں اور دفاعی مقاصد کی زمینوں پر شادی ہالز میں تقریبات بھی روکنے کا حکم دیا۔

عدالت نے آفیشل اسائنی کو 15 روز میں ان زمینوں کی تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے حکم دیا کہ زمین کی قانونی حیثیت سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔

درخواست گزاروں نے ڈالیما، عسکری 4، ڈی ایچ اے میں قائم شادی ہالز کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا ہے۔درخواست گزاروں نے موقف پیش کیا کہ آرمی ، نیوی ، فضائیہ اور دیگر کو دفاعی مقاصد کیلئے زمینیں دی گئی تھیں۔ ان میں ڈی ایچ اے فیز 7 اور فیز  8میں قائم بینکوئٹ اور شادی ہالز شامل ہیں۔

اس کےعلاوہ ڈالمیا روڈ پر قائم سگنیچراور امپیریل بینکوئٹ کی بھی قانونی حیثیت چیلنج کی گئی ہے۔ درخواست گزار نے زمزمہ میں واقع امتیاز سپراسٹور کو بھی غیر قانونی قرار دینے کی استدعا کی ہے۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ ائیر پورٹ کے اطراف قائم بینکوئٹ کو بھی غیر قانونی قرار دیا جائے۔ دفاعی مقاصد کیلئے مختص اراضی کا رہائشی کا کمرشل استعمال خلاف قانون ہے۔

SINDH HIGH COURT

Tabool ads will show in this div