مریضوں کاڈیٹا دل کےامراض کی روک تھام کیلئے ناگزیر قرار

ڈاکٹروں کی ٹریننگ سے متعلق مفاہمتی یاداشت کی تقریب
Oct 22, 2021
فوٹو: اے ایف پی
فوٹو: اے ایف پی
[caption id="attachment_2415479" align="alignnone" width="800"]Heart فوٹو: اے ایف پی[/caption]

راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر انجم جلال کا کہنا ہے کہ ان کا ادارہ ملک کے چھ بڑے کارڈیالوجی انسٹیٹیوٹس کا ڈیٹا جمع کرنے جارہا ہے تاکہ دل کے امراض کی روک تھام کے لیے فیصلہ کن اقدامات کیے جا سکیں۔

جمعرات 21اکتوبر کو انسٹیٹیوٹ آف لیڈرشپ ایکسیلنس اور راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے درمیان ڈاکٹروں کی ٹریننگ کے حوالے سے مفاہمتی یاداشت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وقت کا اہم ترین تقاضا یہ ہے کہ ڈاکٹروں اور فارماسیوٹیکل انڈسٹری کے درمیان تحقیق کے شعبے میں تعاون کو فروغ دیا جائے تاکہ مقامی طور پر ڈیٹا جمع کیا جا سکے اور اس کے نتیجے میں بیماریوں کی روک تھام کے لیے پالیسیاں بنائی جا سکیں۔

اس موقع پر انسٹی ٹیوٹ آف لیڈرشپ ایکسیلینس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید جمشید احمد اور پروفیسر ڈاکٹر انجم جلال نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے جس کے مطابق آئی ایل ای راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے ماہرین کو مینجمنٹ اور کمیونیکیشن کے حوالے سے مختلف ٹریننگ کورسز اور ورکشاپس منعقد کروائے گا۔

پاکستان جنرل آف میڈیکل سائنسز کے چیف ایڈیٹر شوکت علی جاوید، ڈاکٹر مسعود جاوید، منصور خان سمیت راولپنڈی اسٹیٹ آف کارڈیالوجی کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور فیکلٹی کے اراکین بھی موجود تھے۔

معروف کارڈیالوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر انجم جلال کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں موٹیویشنل اسپیکر وہ لوگ ہیں جن کا عملی زندگی میں تجربہ نہ ہونے کے برابر ہے، وہ مشہور شاعروں کے اشعار، دیومالائی قصوں کے کردار اور ناقابل یقین شخصیات کے واقعات سنا کر لوگوں کو کامیاب زندگی کے گر سکھانے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ مغرب میں کامیاب ترین لوگوں کو یونیورسٹی اور اداروں میں بلا کر ان کی زندگی کے حالات و واقعات سے استفادہ کیا جاتا ہے۔

انہوں نے اس موقع پر امید ظاہر کی کہ ماہرین صحت کی ٹریننگ کے ذریعے نہ صرف مریضوں کی مشکلات میں کمی واقع ہو گی بلکہ اس کے نتیجے میں راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے ماہرین کی صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہوگا۔

انسٹیوٹ آف لیڈرشپ ایکسیلینس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید جمشید احمد کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ اس وقت پورے ملک میں ایک ہزار ماہرین صحت کو تربیت فراہم کر چکا ہے، انسٹیٹیوٹ آف لیڈرشپ ایکسیلینس پاکستان کے تمام بڑے اسپتالوں اور میڈیکل یونیورسٹیوں کے اساتذہ کی علمی استعداد بڑھانے کے لیے کوششیں کر رہا ہے تاکہ اس کے نتیجے میں پاکستان میں مریضوں کی مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔

پاکستان جنرل آف میڈیکل سائنسز کے چیف ایڈیٹر شوکت علی جاوید کا کہنا تھا کہ وہ انسٹی ٹیوٹ آف لیڈرشپ ایکسیلینس کے ساتھ مل کر نوجوان ڈاکٹروں کو تحقیق کی طرف مائل کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں، ملک میں درجنوں نوجوان تحقیق کاروں کو لاکھوں روپے کی ریسرچ گرانٹس دی جارہی ہیں تاکہ مقامی سطح پر ڈیٹا اور ریسرچ کی جا سکے۔

HEART

Tabool ads will show in this div