ووٹنگ میں کچھ ارکان ناراض گروپ کاساتھ نہیں دینگے،جام کمال

کئی اراکین کے دستخط جعلی ہوسکتے ہیں، وزیراعلیٰ
Jam Kamal فائل فوٹو

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے دعویٰ کیا ہے کہ کئی ارکان نے صرف عدم اعتماد پیش کرنے کی حد تک ناراض گروپ کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا تھا، اس لیے کچھ ارکان ووٹنگ میں ناراض گروپ کا ساتھ نہیں دیں گے۔

گزشتہ روز بلوچستان اسمبلی اجلاس کے بعد جام کمال خان نے سماء سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں عدم اعتماد کی تحریک پر اعتراض ہے کیونکہ تحریک عدم اعتماد پر کیے گئے کئی اراکین کے دستخط جعلی ہوسکتے ہیں فرانزک کرایا جائے۔

جام کمال نے کہا کہ حکومت اور اتحادی جماعتیں متحد ہیں لیکن چند دوست نالاں ہیں اور کوشش ہے انہیں منا لیں گے۔ انفرادی طور پر کچھ  دوست مجھ سے اور کچھ میرے ساتھیوں سے نالاں ہوں گے، ان میں سے بہت سارے ایسے دوست ہیں جو انتہا پر نہیں جانا چاہتے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ مخالفت کا مقصد یہ نہیں ہونا چاہیئے کہ اسے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر حکومت توڑنے کی جانب لے جایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ناراض اراکین نے پہلے اپنی تعداد 36 بتائی، پھر کہا 41 ہے لیکن اجلاس میں صرف 33 ارکان موجود تھے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ اجلاس میں سلیم کھوسہ، ضیاء لانگو، ثناء اللہ زہری اور یار محمد رند موجود نہیں تھے، یہ تمام ممبران کسی نہ کسی وجوہات کی بنا پر نہیں آئے اسے دوسرا رنگ نہ دیا جائے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ نے 21اکتوبر کو بشریٰ رند کے ٹویٹ پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ افسوس کی بات ہے پی ڈی ایم نے بی اے پی کے ممبران کے لاپتہ ہونے کا الزام لگایا۔  ایک اسمبلی ممبر اجلاس میں آگئے تو پھر خواتین کے لاپتہ ہونے کا الزام لگا دیا، خدارا جھوٹ اور منفی پروپیگنڈا بند کریں۔

انہوں نے کہا کہ کبھی کہتے ہیں ’’مسنگ‘‘ ہیں کبھی کہتے اراکین غائب ہیں، پھر غائب والا بولتا ہے میں موجود ہوں غائب نہیں، پھر کہتے ہیں خواتین نہیں ہیں، پھر خواتین اپنے غائب ہونے کی تردید کرتی ہیں اور پھر خود نئے پارلیمانی لیڈر کیلئے درخواست دیتے ہیں۔ جنہیں غائب بولتے ہیں ان سب کے دستخط درخواست پر موجود ہیں۔

واضح رہے کہ 20اکتوبر کو وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی، جس پر رائے شماری 25اکتوبر کو ہوگی۔

JAM KAMAL

Tabool ads will show in this div