سندھ ہائیکورٹ کاحکومت کوکرپٹو،بٹ کوائن کرنسی کاجائزہ لینےکاحکم

اعلی سطح کمیٹی قائم

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/10/CRYPTO-CURRENCY-WAQAR-ZAKA.mp4"][/video]

سندھ ہائی کورٹ نے حکومت کو کرپٹو اوربٹ کوائن کا 3 ماہ میں جائزہ لینے کا حکم دے دیا ہے۔عدالت نے قانونی حیثیت کے تعین کیلئے وفاقی  سیکریٹری خزانہ کی سربراہی میں اعلی سطح  کمیٹی قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔

بدھ کو سندھ ہائی کورٹ میں کرپٹوکرنسی پر پابندی کے خلاف وقار ذکاء کی درخواست پر سماعت ہوئی۔وزارت خزانہ کے جوائنٹ سیکریٹری نے عدالت کو بتایا کہ ابھی تک واضح نہیں ہوا ہے کہ کرپٹو کیا ہے؟ کیا یہ کوئی کرنسی ہے،اثاثہ ہے یا سوفٹ ویئر ہے؟۔جسٹس کےکےآغا نے ریمارکس دئیے کہ اگر واضح نہیں تو واضح ہونا چاہیےاوراس سلسلے میں آپ قانون کیوں نہیں بناتے۔درخواست گزار وقار زکا نے بتایا کہ جاپان نے کرپٹوکو قانونی شکل دی ہے، تمام بینکس نے لکھ دیا ہے کہ کرپٹو اور بٹ کوائن غیر قانونی ہے۔

ڈپٹی گورنراسٹیٹ بینک نے عدالت کو بتایا کہ فی الحال کرپٹو کرنسی میں کاروبارکرنے کی اجازت نہیں،سرکاری سطح پر تاحال کرپٹو کوغیرقانونی قرار نہیں دیا گیا ہے۔درخواست گزار نے مزید بتایا کہ ایف آئی اے کرپٹو کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کررہی ہے،کرپٹو کو امریکا اوردیگر ممالک کی طرح سوفٹ ویئر کے طور پر تسلیم کیا جائے،کرپٹو اور بٹ کوائن پر حکومت کا موقف واضح ہونا چاہیے۔

بٹ کوائن 6 ماہ کی بلند سطح پر پہنچ گیا

 عدالت نے ہدایت کی کہ کرپٹوکوقانونی شکل دی جاسکتی ہے لیکن اس کو ریگولیٹ کیا جائے اور اعلی سطح کمیٹی درخواست گزار وقار ذکا کا موقف سنے۔عدالت نے حکم دیا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کرپٹو کرنسی کو ریگولیٹ کرنےکےاقدامات کیے جائیں۔

عدالت نے وفاقی سیکریٹری خزانہ کی سربراہی میں اعلی سطح کمیٹی قائم کرنے کا حکم دیا اور 3 ماہ میں رپورٹ طلب کرلی۔اس کمیٹی میں ایس ای سی پی،اسٹیٹ بینک کے نمائندوں کو بھی شامل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ان کے ساتھ وزارت قانون اوروزارت آئی ٹی کے نمائندوں کو بھی کمیٹی میں شامل کیاجائے گا۔

عدالت نےمزید ریمارکس دئیے کہ کمیٹی کا اجلاس ہر 15 روز پرمنعقد ہوگا اورکمیٹی کی کارروائی کو مشتہر نہیں کیا جائےگا، کمیٹی کی کارروائی سے متعلق سوشل میڈیا پر بھی کوئی بیان جاری نہیں کیا جائےگا۔

لاہور:ہائیکورٹ نےکرپٹوکرنسی سےمتعلق بینکنگ کورٹس کوٹرائل سے روک دیا

عدالت نے ایف آئی اے کوکرپٹو کرنسی کاروبار کرنے والوں کے خلاف کارروائی سے روک دیا اور استفسار کیا کہ ایف آئی اے کس بنیاد پرکارروائی کررہی ہے۔عدالت نےایف آئی اے سے درج مقدمات کی رپورٹ طلب کرلی۔ ایس ای سی پی نے عدالت کو بتایا کہ غیر قانونی ایکس چینج کے خلاف کاروائی جاری رکھیں گے۔

سندھ ہائیکورٹ نے کمیٹی کو درخواست وقار ذکاء کا مؤقف سننے کی بھی ہدایت کردی

وقار ذکاء نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گڑ بڑ یہ ہو ئی ہے کہ ایس ای سی پی ایکشن لے گا، اوکٹا ایف ایکس اور بائنانس کو نوٹسز جائیں گے، انہوں نے بول دیا ہے کہ جتنے بھی ایکسچینجز چل رہے ہیں، ان کی بندش کیلئے پی ٹی اے سے رابطہ کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ عدالت نے یہ کہہ دیا ہے کہ جتنے بھی لوگ کرپٹو کرنسی میں لین دین کررہے ہیں اگر وہ منی لانڈرنگ یا ٹیرر فائنانسنگ سمیت کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں تو ایف آئی اے انہیں ہراساں نہیں کرسکتا۔

واضح رہے کہ دو ہفتے قبل کرپٹوڈیجیٹل کرنسی سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے کرپٹو کرنسی سے متعلق بنکنگ کورٹس کو ٹرائل سے روک دیا تھا۔ عدالت نے درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق 5 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا تھا۔

SINDH HIGH COURT

Tabool ads will show in this div