وزیراعلیٰ بلوچستان کی پارٹی رہنما جان جمالی پر تنقید

میرے لیے بلوچستان کھیل نہیں، جام کمال
Jam Kamal فائل فوٹو

وزیر اعلیٰ جام کمال خان نے اپنی ہی جماعت کے رہنما جان جمالی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان، جان جمالی کے لیے ایک کھیل ضرور ہوگا مگر جام کمال کے لیے نہیں ہے۔

اپنی ایک ٹویٹ میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ کچھ لوگ بلوچستان میں لمبے عرصے سے کھیل کھیل رہے ہیں اور کوئی تعجب نہیں کہ ہم اسی حالت میں ہیں۔ بلوچستان جان جمالی کے لیے ایک کھیل ضرور ہوگا، مگر جام کمال کے لیے نہیں۔

انہوں نے کہا کہ خدمت کے لیے آئے ہیں اور آخری وقت تک کرتے رہیں گے، برائے مہربانی آپ اپنا کھیل جاری رکھیں۔

جام کمال خان نے مخالف اراکین اور اپوزیشن کی پریس کانفرنس سے متعلق کہا کہ پی ڈی ایم بلوچستان عوامی پارٹی سے مدد مانگ رہی ہے، عجیب بات ہے کہ انکے پہلے اور اب کے بیانات میں تبدیلی آئی ہے۔

گزشتہ روز بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما ظہور بلیدی نے دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے اپوزیشن سمیت 40 ارکان اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جام کمال مستعفی ہوجائیں کیونکہ اپوزیشن نے بھی تحریک عدم اعتماد کی حمایت کر دی ہے۔

ظہور بلیدی کے مطابق نواب ثناء اللہ زہری، نواب اسلم رئیسانی اور لالارشید نے بھی تحریک کی حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔

اپوزیشن لیڈر ملک سکندر ایڈووکیٹ اور دیگر حزب اختلاف کے ارکان نے بھی تحریک عدم اعتماد کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہ وزیراعلیٰ جام کمال کے تمام دعوے جھوٹے ثابت ہوئے ہیں اور یہاں موجود تمام ارکان چاہتے ہیں وزیراعلیٰ نہ رہیں۔ وزیراعلیٰ جام کمال اکثریت کھو چکے ہیں، اب انہیں وزارت اعلیٰ پر رہنے کا کوئی حق نہیں۔

JAM KAMAL

Tabool ads will show in this div