کالمز / بلاگ

پہلے طعنے پھر تالیاں

منزل صرف انتظار سے نہیں کوشش سے ملتی ہے
Oct 18, 2021

مجھے ہمیشہ اس بات  پر دکھ ہوتا ہے کہ کوئی  کیوں کر کسی کے ذاتی معاملات میں  بلاوجہ دخل اندازی کرے اس کی زندگی کے مقاصد کے حصول  کے طریقہ  پر تبصرہ کرے جس سے سامنے والے کے خوابوں پر پانی پڑ جائے یا کوئی کیوں کر کسی دوسرے کے پست افکار کو اپنے راستے کی رکاوٹ سمجھ کر بڑا خواب دیکھنا چھوڑ دے۔

چونکہ  لوگوں کی باتیں تلوار سے بھی زیادہ گہرے گھاؤ رکھتی ہیں اگر ان کی باتوں کے بوجھ کو اپنی پیٹھ پر لاد لیا جائے تو انسان کی کمر ٹوٹ ہی جائے۔ زندگی میں ہم کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے دو چیزوں کو بڑی گہرائی سے دیکھتے ہیں انہی کے فیصلوں کو اپنے لیے لازم سمجھتے ہیں اور اسی بنیاد پر اپنے زندگی کے مقاصد کا تعین کیا کرتے ہیں یہ دونوں چیزیں کسی بھی منزل کے مسافر کو مقام تک پہنچانے میں بڑی رکاوٹ ثابت ہوتے ہیں۔ دنیا میں ناکام ہونے والے لوگوں میں یہی دو چیزیں مشترک ہوتی ہیں، یہ دونوں اس قدر خطرناک اور زہریلی ہیں کہ انسان سوچ بھی نہیں سکتا ہے یہ کسی ایٹمی ہتھیار سے بھی زیادہ مہلک ہے ان کو استعمال کرنے کے لیے کسی بیرونی طاقت کی ضرورت نہیں ہوتی کسی کو مجبور نہیں کیا جاتا ہے کہ ان چیزوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔

انسان کی قوت فیصلہ کے ساتھ کچھ ہمسایہ قوتیں ہوتی ہیں جو ہر وقت ہر جگہ ہر مقام پر انسان کا ساتھ نہیں چھوڑتیں بلکہ یہ ہر ایک معاملے میں دخل اندازی کرتہ رہتی ہیں۔ اگر ہم ان دونوں چیزوں کو سمجھ کر ان پر قابو پائیں گے تو کامیابی ضرور ہمارے قدموں میں گرے گی لیکن ان کی پہچان کرنے میں دیر کریں گے تو پھر ہمارے قدموں میں موجود منزل ہم سے کوسوں دور چلی جائے گی زندگی میں کوئی بھی بڑا فیصلہ لینے سے پہلے ان کی معرفت  ہونی چاہیے اگر ایسا نہیں ہوا تو زندگی کے ہر موڑ پر تکلیفات ہم سے نکاح کر بیٹھیں گے اور ہم انہیں  کبھی طلاق نہیں دے پائیں گےلہذا ان کی پہچان ضروری ہے۔ وہ دونوں چیزیں ہیں نتائج سے خوف اور لوگوں کی سوچ و رویے۔

جی ہاں یہی ہیں جو کسی بھی انسان کو کچھ بڑا کرنے سے روکتی ہیں ہم زندگی میں کوئی بھی کام کرنے سے پہلے اس کے نتائج کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں کہ کیا ہمیں کامیابی ملے گی یا نہیں؟ آیا اس سے پہلے کسی بندے نے یہ کام کیا ہے؟ فلاں بندہ تو اس کام میں ناکام ہوا ہے۔ اس سے معاشرے میں مجھے عزت ملے گی یا نہیں ؟اگر اس سے مجھے پیسے نہیں ملے تو پھر کیا ہوگا؟ یہ سارے وہ سوالات اور ہمارے شبہات ہیں جو کوئی بھی کام کرنے سے پہلے ہمارے ذہنوں میں خود بخود پیدا ہوتے ہیں ان کے پیدا ہونے کے پیچھے بھی بہت سے محرکات پوشیدہ ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ ان کے اثرات بھی بڑے دلچسپ ہوتے ہیں انسان کو خود ہی سے لڑا کر شکست دلاتا ہےاور اس میں مزے کی بات یہ ہے کہ یہ اکیلا کام نہیں کرتا بلکہ ذہن میں موجود بہت سے ہائی جیکرز بھی اس کے معاون ہوتے ہیں اور دوسری  خطرناک اور تباہ کن چیز لوگوں کی سوچ اور رویہ ہے۔

جی ہاں ہم اپنے فیصلوں کو کرنے سے پہلے لوگوں کی باتوں کو لوگوں کی سوچ کو لوگوں کے رویوں کو بڑی اہمیت دیتے ہیں لوگوں کی رائے کے تناظر میں ہم اپنے فیصلے کرتے ہیں زندگی کے مقاصد کا تعین کرنے میں لوگوں کے ہمارے بارے میں جس طرح کے احساسات جذبات اور نظریات ہونگے ہم بالکل ہی اسی طرح فیصلہ کریں گے کیونکہ ہم لوگوں کے فیصلوں کی بڑی قدر کرتے  ہیں ان کو رد کرنے اس کے برخلاف کچھ کرنے سے  ہم کتراتے ہیں۔

چونکہ  لوگوں کی باتیں تلوار سے بھی زیادہ گہرا لگاؤ لگاتی ہیں اگر ہم ان کو نظر انداز کریں گے تو پھر ہمارے خوابوں کا جنازہ نکل جائے گا اس لیے کبھی بھی لوگوں کے فیصلوں کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دینا چاہیے کیونکہ خواب آپ کے ہیں تو پھر آپ ہی کو پورا کرنا ہے تو پھر دوسروں کے سوچ وفکر اور نظریات کو انپے اوپر حاوی کر کے اپنے مقاصد پر شک کیوں کریں۔ زیادہ  تر لوگ تو اپنی زندگی میں کوئی   مقصد کا بھی تعین نہیں کر سکتے ہیں جس طرف دھکہ ملے اسی طرف چل پڑتے ہیں ان میں سب سے مشکل کام زندگی کے مقاصد کا تعین ہے اگر آپ اس کو کرنے میں کامیاب رہے تو پھر گویا آپ نے  فیصد 50 فیصد کام مکمل کر لیا۔ باقی  کام کرنے کے لیے آپ کو خود جہدوجہد  کر نی پڑے گی۔

اب  آئیے دیکھتے ہیں جو لوگ اپنی زندگی میں کچھ بڑا کرنے کے خواب دیکھتے ہیں کیا وہ سب ہی کامیاب ہو جاتے ہیں یا نہیں تو جواب ہے "نہیں" ہاں یہ ایک اٹل حقیقت ہے کی جو بھی افراد خواب دیکھتے ہیں وہ سب کامیاب نہیں ہو جاتے دنیا میں ہر کوئی کامیاب ہونا چاہتا ہے پرسکون زندگی گزارنا چاہتا ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ سب کو یہ میسر نہیں آ سکتے۔

یہاں پر حیرانگی کی بات یہ  ہے کہ خواب بڑے دیکھنے کے باوجود مقاصد طے  ہو کر بھی آخر منزل تک نہ پہنچنا کیوں؟یہ اس لیے ایسا ہے کہ ہم اپنے فیصلوں میں انہی دو چیزوں کو شامل کرتے رہتے ہیں اور یہ ہمارے عزم و استقامت اور حوصلہ جیسے قوتوں کو کمزور کر دیتا ہے اور یہ دونوں اپنے ساتھ کچھ ایسے تباہ کن افکار کو ساتھ ملاتے ہیں جس سے ہمارے آہنی عزم اور مضبوط دیواروں جیسے پختہ ارادے بھی ٹوٹ جاتے ہیں۔ آخر اس کا  نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم اور ہمارے مقاصد میں بڑی دوری پیدا ہو جاتا ہے اور ہماری طے شدہ  زندگی کے مقاصد ہمیں ناممکن دکھائی دیتے ہیں اور یوں ہم اپنی شکست قریب دیکھ کر ہار مان جاتے ہیں۔

یہاں پر یہ سوال پیدا ہو جاتا ہے کیا کامیاب ہونے کے لیے زندگی میں کچھ بڑا کرنے کے لیے ہمارے راستوں میں مشکلات نہیں آتیں، ایسا  تو خیر  نہیں ہوسکتا کہ مشکل درپیش نہ ہو آپ کو کچھ پانے کے لیے بہت کچھ کھونا بھی پڑتا ہے تب جا کر آپ کو کچھ مل سکتا ہے۔ یہ دنیا ہمیشہ چڑھتے سورج کو سلام کرتی ہے جب تک آپ کچھ بن نہیں جاتے یہ دنیا آپ کو کوئی عزت نہیں دے گا، تمہاری کوئی نہیں سنے گا اگر سب ٹھیک ہونے کا انتظار کرتے رہو گے تو انتظار ہی کرتے رہو گے انتظار کرنے والوں کو ہمیشہ وہی ملتا ہے جو کوشش کرنے والے پیچھے چھوڑ جاتے اس لیے خود ہمت کرو اور سب کچھ ٹھیک کر کے دکھاؤ۔

کبھی ہار بھی جاؤ تو ہمت نہ ہارنا اس لیے کہ آپ سال یا دن ہار جاتے ہیں زندگی نہیں ہارتے اس لیے لوگ آپ کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اس کی فکر مت کریں کیونکہ لوگ وہی کچھ بولتے ہیں جو انہیں اچھا لگتا ہے اور آپ وہی کریں جو آپ کو اچھا لگتا ہے اس لیے آج جو لوگ آپ کی ناکامی پر آپ کے اوپر ہنستے ہیں کل یہی لوگ آپ کی کامیابی پر تالیاں بجا کر آپ کا استقبال کریں گے۔

بلاگ

Tabool ads will show in this div