افغانستان: طالبان کا انسداد پولیو مہم دوبارہ شروع کرنیکا فیصلہ

مہم میں 33لاکھ بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے
Oct 18, 2021
فوٹو: اے ایف پی
فوٹو: اے ایف پی
[caption id="attachment_2411374" align="alignnone" width="800"]Polio Afghanistan فوٹو: اے ایف پی[/caption]

افغانستان میں طالبان کی جانب سے تمام بچوں کے لیے پولیو ویکسی نیشن مہم تین سال بعد دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبیو ایچ او) اور یونیسیف نے طالبان کے بیان کو سراہا ہے۔ ملک بھر میں ویکسی نیشن مہم 8نومبر کو شروع کی جائے گی جس میں 33 لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔

افغانستان میں موجود عالمی ادارہ صحت کے نمائندے ڈپینگ لوو نے طالبان کے فیصلے پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قدم انتہائی اہم ہے۔

ڈپینگ لوو نے کہا کہ پولیو ویکسین کی متعدد خوراکیں بہترین تحفظ فراہم کرتی ہیں، لہٰذا ہمیں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ اس سال کے اختتام سے قبل ایک اور مہم کا منصوبہ آگیا ہے۔ پولیو کے خاتمے کے لیے تمام بچوں تک رسائی ضروری ہے۔

افغانستان میں یونیسیف کے نمائندے نے کہا کہ وہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے منصوبے ترتیب دے رہے ہیں۔

طالبان حکام کو قائل کرنے والے ڈبلیو ایچ او کے عہدیداروں نے کہا کہ یہ قدم نہ صرف افغانستان بلکہ خطے کے لیے بھی اہم ہے کیونکہ پاکستان اب بھی پولیو کیسز سے نمٹ رہا ہے۔

پولیو کے خاتمے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حمید جعفری نے بھی طالبان نے اقدام کو سراہا ہے۔

TALIBAN

Tabool ads will show in this div