انکم ٹیکس گوشوارےجمع کرانےکی تاریخ میں توسیع نہیں ہوگی،ایف بی آر

نان فائلرز کو ایک ہزار جرمانہ، دو سال قید کی سزا
[caption id="attachment_2059866" align="alignnone" width="764"]FBR فائل فوٹو[/caption]

ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع نہیں کی جائے گی اور آج ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی آخری تاریخ ہے۔

ایف بی آر کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اب تک ساڑھے 23 لاکھ سے زائد افراد نے ٹیکس گوشوارے جمع کروادیئے ہیں، بھر پور مہم کے باوجود 35 لاکھ گوشواروں کا سالانہ ہدف پورا نہ ہوسکا۔ اس سال 30 ستمبر تک 18 لاکھ 64 ہزار افراد نے ریٹرن فائل کیے اور 30 ستمبر سے اب تک مزید 5 لاکھ ٹیکس گوشوارے جمع ہوئے ہیں۔ گزشتہ سال دسمبر تک 17 لاکھ 90 ہزار 815 گوشوارے جمع ہوئے تھے جن میں کراچی، لاہور، اسلام آباد سمیت بڑے شہروں سے سب سے زیادہ ٹیکس ریٹرن جمع ہوئے ہیں۔

ایف بی آر نے کہا کہ نان فائلرز کو یومیہ 1 ہزار جرمانہ اور 2 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے اور گھر، گاڑی، اسمارٹ فون کی خریداری بہت مہنگی پڑے گی۔اس کےعلاوہ بجلی کے بل،اشیاء کی خرید و فروخت، منافع، انعامی رقم پر دُگنا ٹیکس دینا ہوگا اور گاڑیوں کی رجسٹریشن پر بھی دُگنا ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

ٹیکس نہ جمع کروانے والوں کو 5 کروڑ کی پراپرٹی پر 5 لاکھ کے بجائے 10 لاکھ روپے ٹیکس کٹوتی ہوگی، 1000 سی سی کی گاڑی کی رجسٹریشن پر 15 ہزار کی بجائے 30 ہزار دینے ہونگے،1 ہزار سی سی تک کی گاڑی کا ٹوکن ٹیکس 10 ہزار کے بجائے 20 ہزار روپے ہوگا۔

ایف بی آر کے مطابق 500 ڈالر مالیت کے موبائل کی رجسٹریشن پر 3 ہزار کی بجائے 6 ہزار کا ٹیکس دینا ہوگا جبکہ 500 ڈالر سے مہنگے اسمارٹ فون پر 5 ہزار 200 کی بجائے 10 ہزار 400 روپے کا ٹیکس لاگو ہوگا۔

نان ٹیکس فائلرز کو 25 ہزار روپے کے ماہانہ بجلی کے بل پر ساڑھے 7 فیصد اضافی ٹیکس دینا ہوگا اور اشیاء کی خریداری،امپورٹ، انعامی رقم اور منافع پر بھی اضافی ٹیکس دینا ہوگا۔

واضح رہے اس سے پہلے ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر مقرر کی گئی تھی جس میں توسیع کرکے آخری 15 اکتوبر کردی گئی تھی۔

Tabool ads will show in this div