راولپنڈی: گاڑیوں کے استعمال شدہ پرزہ جات کی شدید قلت

افغانستان کی غیر یقینی صورتحال کے باعث مال نہیں آرہا،دکاندار
Oct 14, 2021

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/10/Kabuli-Spare-Parts-Isb-Pkg-13-10.mp4"][/video]

افغانستان کے غیر یقینی حالات سے راولپنڈی کی کابلی مارکیٹوں کا کام  شدید متاثر ہے اور جہاں ایک طرف گاڑیوں کے استعمال شدہ پرزہ جات سستے داموں ڈھونڈنے والے افراد پریشان ہیں وہاں مال کی قلت کے باعث دکانداروں کے لیے کاروبار جاری رکھنا محال ہوچکا ہے۔

راولپنڈی میں گاڑیوں کے استعمال شدہ پرزہ جات جنہیں عرف عام میں کابلی سامان کہا جاتا ہے کی شدید قلت کے باعث دکاندار اور گاہک دونوں ہی ان دنوں خاصی پریشانی کا شکار ہیں۔

کابلی سامان کے لیے مشہور بازار احاطہ مٹھو خان  بھی ویران ہونے لگا ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ کابلی سامان مل ہی نہیں رہا اور جو مل رہا ہے اس کی قیمتیں بہت چڑھی ہوئی ہیں جس کے باعث گاہک بھی خریداری سے گریز کر رہے ہیں۔

دو سو سے زائد دکانوں پر مشتمل کابلی بازار کے دکاندار کہتے ہیں ڈیمانڈ زیادہ ہے اور سپلائی نہ ہونے کے برابر ہے اس لیے کام دھندہ تو ٹھپ ہی ہوتا نظر آ رہا ہے۔

احاطہ مٹھو خان کے تاجر رہنما حاجی غفار خان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں جو صورتحال پیدا ہوئی اس کے بعد کابلی سامان کے ریٹ میں 50 فیصد فرق پڑا ہے، جتنے کنٹینر آرہے ہیں وہ ڈیمانڈ پوری کرنے کے لیے ناکافی ہیں جس کی وجہ سے سامان کی قلت کا سامنا ہے۔

احاطہ مٹھو خان کے تاجروں کا کہنا ہے افغانستان سے آنے والے کنٹینرز پر عائد بھاری ڈیوٹیز بھی مال کی قلت اور قیمتیں بڑھنے کی ایک بڑی وجہ ہے۔

used spare parts

Afghanistan’s situation