افغان حکومت کو کمزور کرنےسےعالمی امن خطرےمیں پڑسکتا ہے،طالبان

کسی کو افغانستان ميں پراکسی وار کی اجازت نہيں ديں گے،ذبیح مجاہد
Oct 14, 2021

افغانستان کے عبوری وزیرخارجہ امیرخان متقی کا کہنا ہے کہ افغان حکومت کو کمزور کرنے سے کسی کو فائدہ نہيں ہوگا بلکہ ایسی کسی کوشش سے عالمی سيکورٹی خطرے میں پڑ جائے گی۔

دوحا ميں امريکی اور يورپی وفود سے ملاقات ميں وزيرخارجہ امير خان متقی نے خبردار کيا کہ افغان حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش کی تو عالمی سيکيورٹی کو خدشات لاحق ہوں گے اور مہاجرین کا ايسا سیلاب آئے گا جسے روکنا کسی کے بس میں نہیں ہوگا۔

امیرخان متقی کا کہنا تھا کہ بہتر ہے کہ کابل سے تعميری تعلقات اور تعاون کيا جائے پابندياں ہٹائی جائيں اور بينکوں کو معمول کے مطابق کام کرنے ديا جائے۔

دوحا ريسرچ انسٹی ٹيوٹ سے خطاب کرتے ہوئے امير خان متقی کا کہنا تھا کہ طالبان کا کابل ميں داخل ہونے کا کوئی ارادہ نہيں تھا مگر اشرف غنی کے فرار ہو جانے کے بعد دارالحکومت کی سلامتی کی خاطر طالبان کو کابل ميں داخل ہونا پڑا۔

افغان وزیرخارجہ نے اپنے ترک ہم منصب اور چینی سفیر سے بھی ملاقاتیں کیں۔ چينی سفير نے کہا ان کا ملک افغان عوام کی سماجی خواہش کا احترام اور ان کی حمايت کرتا ہے۔

طالبان ترجمان ذبيح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ افغانستان ميں نيٹو کے دندناتے پھرنے کا دور ختم ہوگيا نيٹو کی ناکامی کے لیے 20 سال  کا تجربہ کافی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دنيا جان لے کہ حالات بدل چکے ہيں، کسی کو افغانستان ميں پراکسی جنگ کی ہرگز اجازت نہيں ديں گے۔

EUROPEAN UNION

AFGHAN TALIBAN

Tabool ads will show in this div