آصف زرداری کی نیب ریفرنس میں بریت کی درخواست مسترد

مشکوک ٹرانزیکشن ریفرنس میں بریت کی درخواست دائر کی تھی

احتساب عدالت نے آصف علی زرداری کی جانب سے نیب ریفرنس میں بریت کی درخواست خارج کردی۔ سابق صدر نے 8 ارب روپے کی مشکوک ٹرانزیکشن کے ریفرنس میں نئے نیب آرڈیننس کے تحت بریت کی درخواست دائر کی تھی۔

احتساب عدالت تھری کے جج سید اصغر علی نے درخواست کے قابل قبول ہونے پر دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد فیصلے کا اعلان کیا۔

آصف علی زرداری ذاتی طور پر اپنے وکیل فاروق ایچ نائیک کے ہمراہ احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔

کارروائی کے دوران فاروق ایچ نائیک نے جج سے درخواست کی کہ وہ اپنے مؤکل کی بریت کی درخواست پر فیصلہ کریں۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ لین دین ایک نجی معاملہ ہے جو نئے آرڈیننس کے تحت نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔

انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ریفرنس میں ان کے مؤکل کیخلاف اختیارات کے ناجائز استعمال یا غیر قانونی رقم وصول کرنے کا کوئی الزام نہیں ہے۔ فاروق ایچ نائیک نے عدالت سے استدعا کی کہ بریت کی درخواستوں پر قومی احتساب بیورو سے رائے طلب کی جائے۔

مدعا علیہان کے دلائل سننے کے بعد احتساب عدالت کے جج نے سابق صدر آصف زرداری کی بریت کی درخواست مسترد کردی۔

عدالت سے باہر میڈیا سے گفتگو میں ایک صحافی کے سوال کے جواب میں سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ اگلی باری پیپلز پارٹی کی ہوگی، ہمارا مؤقف ہے کہ حکومت ہی نااہل ہے۔

ASIF ALI ZARDARI

nab reference

Tabool ads will show in this div