نورمقدم کیس:ملزمان نےدستاویز فراہمی کا مسترد ہونےوالافیصلہ چیلنج کردیا

درخواست میں 7 اکتوبر کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی
noor-mukadam فائل فوٹو

نور مقدم قتل کیس میں تھراپی ورکس کے مالک نے دستاویزات فراہمی کا مسترد ہونے والا فیصلہ چیلنج کردیا ہے۔

بدھ کو نورمقدم قتل کیس کے ملزم طاہرظہور نے ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی کے فیصلے کے خلاف اسلام ہائیکورٹ میں درخواست دائرکردی۔

درخواست میں 7 اکتوبر کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی۔طاہر ظہور نےموقف اختیار کیا کہ ایڈیشنل سیشن جج نے مناسب وجہ بتائے بغیر دستاویزات فراہم کرنے کی درخواست مسترد کی اور عدالت یہ فیصلہ غیرآئینی وغیر قانونی قرار دے کر ٹرائل سے پہلے تمام دستاویزات فراہم کرنے کا حکم دے۔

سات اکتوبر کو ایڈشنل سیشن جج نےملزمان کی درخواستیں خارج کردی تھیں۔ جج عطاءربانی نے ریمارکس دئیے تھے کہ بیانات کی نقول پہلے ہی فراہم کی جا چکی ہیں اور اب ڈیجیٹل شواہد کا معاملہ ٹرائل کے دوران دیکھیں گے۔

واضح رہے کہ ملزمان نے 6 اکتوبر کو بیانات کی کاپیاں اور سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔ایڈیشنل سیشن جج نے 14 اکتوبر2021 بروز جمعرات ملزمان پر فردِ جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر کررکھی ہے۔

اس کےعلاوہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والدین ذاکر جعفر اور عصمت ذاکر کی ضمانت کی درخواست خارج کی تھی۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا  کہ بادی النظر میں ظاہر جعفر کے والدین اعانت جرم کے مرتکب ہوئے ہیں۔ والدین جانتے تھے کہ ملزم ظاہر جعفر نے لڑکی کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

نورمقدم کیس:والدین جانتےتھےظاہرنےلڑکی کویرغمال بنایاہے،فیصلہ

اپنے فیصلے میں عدالت نے حکم دیتے ہوئے کہا کہ ملزم ظاہر جعفر کے والدین کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہیں۔نورمقدم کیس کا ٹرائل 8 ہفتے کے اندر مکمل کیا جائے، جب کہ پولیس اپنے شواہد جلد عدالت میں پیش کرے۔

بعد ازاں جاری تفصیلی فیصلے میں عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ مرکزی ملزم کے والدین کے پاس معلومات ہونے کے باوجود انہوں نے پولیس کو اطلاع نہیں دی۔ چوکیدار واضح کہہ چکا ہے کہ اس نے ذاکر جعفر کو اطلاع دی تھی۔ تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کہہ چکی ہے کہ اعانت قتل بھی قتل کرنے جیسا ہی سنگین جرم ہے۔

نورمقدم کیس:عدالت کی استغاثہ کوعصمت جعفرکی حدتک شواہدپیش کرنےکی ہدایت

فیصلےمیں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جرم میں اعانت کیلئے ڈائریکٹ معاونت کے شواہد ہونا بطور اصول ہر جگہ لاگو نہیں ہو سکتا۔ اعانت جرم اِن ڈائریکٹ بھی ہو سکتی ہے جس کیلئے واقعاتی شواہد کافی ہیں۔ بلیک لا ڈکشنری کے مطابق اپنا فرض ادا نہ کرنے بھی اعانت جرم ہے۔ ظاہر جعفر نے بیان میں کہا اس نے والد کو قتل سے پہلے آگاہ کیا تھا۔

تفصیلی فیصلے میں عدالت نے مزید لکھا ہے کہ ظاہر جعفر کا بیان قابل قبول ہے یا نہیں فیصلہ ٹرائل کورٹ نے کرنا ہے۔ چوکیدار کی اطلاع کے بعد زاکر جعفر نے تھیراپی ورکس کے مالک کو آگاہ کیا۔ تھیراپی ورکس کو اطلاع ملنے کے بعد بھی پولیس کو اطلاع دینے کی کوشش نہیں کی گئی۔ قابل ضمانت دفعات پر بھی بعض معاملات کے ہوتے ضمانت مسترد ہوسکتی ہے۔ ملزمان کے شواہد یا گواہان پر اثرانداز ہونے کا امکان ہو تو ضمانت مسترد ہو سکتی ہے۔ ریکارڈ کے مطابق ظاہر جعفر کے والدین نے شواہد چھپانے اور کرائم سین صاف کرنے کی کوشش کی۔

NOOR MUQADAM

Tabool ads will show in this div