عمران خان پاکستانی پشتونوں کو طالبان سےجوڑنے پرتنقید کا شکار

پشتون طالبان کے حمایتی نہیں ان کی زیادتی کا شکارہیں،ناقدین
Oct 12, 2021
Former Taliban fighters look on during a ceremony after joining Afghan government forces in Herat on August 7, 2013. About 100,000 foreign combat troops, 68,000 of them from the US, are due to exit by the end of 2014, and NATO formally transferred responsibility for nationwide security to Afghan forces a week ago. AFP PHOTO/ Aref Karimi
Former Taliban fighters look on during a ceremony after joining Afghan government forces in Herat on August 7, 2013. About 100,000 foreign combat troops, 68,000 of them from the US, are due to exit by the end of 2014, and NATO formally transferred responsibility for nationwide security to Afghan forces a week ago. AFP PHOTO/ Aref Karimi

وزیراعظم عمران خان نے حال ہی میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو پشتون تحریک قرار دیا جس پر سوشل میڈیا پر انہیں شدید تنقید کا سامنا ہے۔ اس سے پہلے بھی اسی قسم کے ایک بیان پر ان پر کڑی نکتہ چینی کی گئی تھی۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا تھا کہ قبائلی اضلاع کے لوگوں نے افغان طالبان کا ساتھ پشتون قوم پرستی کی بنیاد پر دیا تھا جبکہ گزشتہ روز مڈل ایسٹ آئی کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں ٹی ٹی پی کو پشتون تحریک کہہ دیا جس پر انہیں ایک بار پھر شدید تنقید کا سامنا ہے۔

اپنے انٹرویو کے دوران ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کالعدم ٹی ٹی پی سرحد کی اس جانب یعنی پاکستان کے پشتون ہیں پھر انہوں نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ  طالبان ایک پشتون تحریک ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں 45 سے 50 فیصد آبادی پشتون ہے مگر پاکستان میں پشتونوں کی آبادی اس سے دگنی ہے۔

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ جب امریکا نے افغانستان سے طالبان حکومت کا خاتمہ کیا تو اس طرف کے پشتونوں کو پاکستانی پشتونوں کی ہمدردی ملی جس کی وجہ مذہبی نظریات نہیں بلکہ پشتون قوم پرستی تھی۔

وزیراعظم عمران خان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ ایک امن پسند پشتون قوم کو طالبان سے ملانا قابل افسوس ہے۔

ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ مٹھی بھر دہشتگردوں کو پوری قوم سے جوڑنا اور انہیں دہشتگرد قرار دینا پشتون قوم کی تضحیک ہے جنہوں نے دہشتگردی کا راستہ روکا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پشتون دہشتگرد نہیں بلکہ خود دہشتگردی کے متاثرین ہیں۔

رکن قومی اسمبلی اور نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے رہنما محسن داوڑ کا کہنا تھا کہ ایک مرتبہ پھر پاکستان کے وزیراعظم نے پشتونوں کو دہشتگرد قرار دے دیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان ان لاکھوں پشتونوں کے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں جن کے پیاروں نے طالبان کی شدت پسندی کی وجہ سے جانیں گنوائیں۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما منظور پشتین نے عمران خان کے انٹرویو کے دوران دیے گئے بیان پر تنقید کرتے ہوئے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ عمران خان پشتونوں کے بارے میں مسلسل نسلی اور متضاد وضاحتیں دے کر انہیں مجرم بناکر پیش کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس سے خطاب کے دوران بھی عمران خان نے اس سے ملتی جلتی بات کی تھی اور اس بیان کو بھی پشتون خطے خصوصاً قوم پرست حلقوں میں پسند نہیں کیا گیا تھا۔

عمران خان نے اس وقت یہ بھی کہا تھا کہ قبائلی اضلاع کے لوگوں کی افغان طالبان کے ساتھ ہمدردیاں تھیں اور وہ اس لیے نہیں تھیں کہ ان کا مذہبی نظریہ ایک تھا بلکہ پشتون قومیت کی وجہ سے تھیں جو بہت زیادہ مضبوط ہے۔

عمران خان کے اقوام متحدہ والے خطاب پر سینئر صحافی سلیم صافی نے اپنے ٹویٹر پیغام میں لکھا تھا کہ عمران خان نے افغان طالبان کی تحریک کو پشتون قوم پرستی سے جوڑ دیا حالاں کہ طالبان نے کبھی پشتون نیشنلزم کی بات نہیں کی بلکہ ان کا نعرہ شریعت ہے،  وہ اپنی منزل خلافت قرار دیتے ہیں جبکہ طالبان کے مقابلے میں جو لوگ امریکہ اور نیٹو کی چھتری تلے حکمران بنے ، وہ حامد کرزئی تھے یا اشرف غنی اور دونوں پشتون ہیں۔

سلیم صافی نے یہ بھی لکھا تھا کہ بلاشبہ نیک محمد پاکستانی طالبان کے پہلے لیڈر تھے لیکن انہوں نے پناہ عرب اور ازبک مجاہدین کو دی تھی۔ طالبان کی پہلی حکومت کے پاکستان میں جو شدید ترین مخالف تھے وہ بھی اے این پی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے لیڈرز تھے اور اب دوبارہ ان کی کامیابی پر بھی سب سے زیادہ ماتم یہ قوم پرست جماعتیں کررہی ہیں جبکہ اس کے علاوہ تحریک طالبان پاکستان میں پنجابی بھی شامل تھے۔

عمران خان کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر بھی جہاں ایک طرف تنقید کی جارہی ہے وہیں دوسری طرف ان کے حامی اس بیان کا دفاع کرتے بھی نظر آرہے ہیں۔

سابق سینیٹر افراسیاب خٹک نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ پشتون ایک مظلوم قوم ہے اور اس میں دہشت گردوں کو سپورٹ کرنے یا پناہ دینے کی سکت نہیں ہے۔

سابق ایم این اے بشریٰ گوہر کا کہنا تھا کہ پشتون طالبان کے مخالف اور ان کے شکار ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ طالبان پشتونوں کی نمائندگی نہیں کرتے۔

اگرچہ حکومت نے وزیر اعظم کے ان باتوں پر کوئی وضاحت جاری نہیں کی مگر اس سلسلے میں جب ترجمان خیبرپختونخوا حکومت کامران بنگش سے رابطہ کیا گیا تو ان کے سیکرٹری کا کہنا تھا کہ منسٹر صاحب مصروف ہیں۔ تاہم وزیراعظم کے معاون خصوصی شہبازگل نے ٹویٹر پر لکھا کہ وزیراعظم کے بیان کو غلط رنگ دے کر پھیلانا قابل افسوس ہے۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ وزیراعظم نے کہا تھا کہ امریکہ کا ساتھ دینے پر اور ڈرون حملوں سے متاثرہ ناراض پشتونوں (طالبان) نے ناراضگی میں ریاست پر حملے شروع کر دیے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ عمران خان نے ہمیشہ پشتونوں پر ہونے والے ظلم پر بات کی ہے۔

AFGHAN TALIBAN

Pakistan PM

Pukhtoon

Pushtoon

PM IK

Tabool ads will show in this div