عدالت نے سعد رضوی کی رہائی کے فیصلہ پرعمل درآمد روک دیا

معاملہ واپس لاہور ہائی کورٹ کو بھیجوا دیا
فائل فوٹو
فائل فوٹو
فائل فوٹو

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری  کے 2 رکنی بینچ نے کالعدم ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کی رہائی کے فیصلہ پر عمل درآمد روکتے ہوئے معاملہ واپس لاہور ہائیکورٹ کو بھجوا دیا۔

منگل 12 اکتوبر کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں کالعدم تحریر لبیک ( ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد رضوی کی رہائی کے فیصلے کے خلاف پنجاب حکومت کی اپیل پر سماعت ہوئی۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کے جج جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی پر مشتمل 2 رکنی خصوصی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے آغاز میں پنجاب حکومت کے وکیل کا کہنا تھا کہ جلاؤ گھیراؤ کے افسوسناک واقعے میں 3 پولیس اہلکاروں سمیت 12 افراد جان کی بازی ہارے۔ ہائی کورٹ کے نظر ثانی بورڈ نے سعد رضوی کی نظر بندی میں توسیع نہیں کی۔

جس پر جسٹس مظاہر نقوی نے استفسار کیا کہ کیا انسداد دہشت گری دفعات کے تحت نظر بندی کا کوئی گزٹ نوٹی فیکیشن بھی جاری کیا گیا تھا۔ جس پر پنجاب حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جی گزٹ نوٹی فیکیشن جاری کیا گیا ہے۔

اس موقع پر درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت کے پاس 90 روز کے بعد نظر بندی کی توسیع کا اختیار نہیں ہے۔ جس پر جسٹس مظاہر نے ریمارکس دیئے کہ شاید دونوں فریقین کی طرف سے کیس کو درست طریقے سے ڈیل نہیں کیا گیا۔ جو ماضی میں واقعے ہوئے آپ اسے تو مانتے ہیں کہ ایسا واقعہ ہوا۔

عدالتی ریمارکس پر درخواست گزار کے وکیل برہان معظم ملک نے کہا کہ جب ہنگامہ ہوا تو سعد رضوی اس سے قبل ہی جیل میں تھے۔ سعد رضوی بغیر کسی وجہ کے چھ ماہ سے جیل میں قید ہیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی، ہم کیس لاہور ہائی کورٹ کو بھجوا دیتے ہیں۔ اس موقع پر سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کے 2 رکنی بینچ نے سعد رضوی کی رہائی کے فیصلہ پر عمل درآمد روکتے ہوئے کیس دوبارہ لاہور ہائی کورٹ کو بھیج دیا۔ عدالتی حکم کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کا 2 رکنی خصوصی بینچ کیس کی سماعت کے بعد فیصلہ کرے۔

حکومت پنجاب کا مؤقف

واضح رہے کہ حکومت پنجاب نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد حسین رضوی کو رہا کرنے کا لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ پیر 11 اکتوبر کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ صوبائی حکومت نے درخواست میں سعد رضوی کے چچا امیر حسین کو فریق بناتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کے سعد رضوی کو رہا کرنے کے حکم میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ ہائی کورٹ کو کیس سے متعلق تفصیلی ریکارڈ بھی فراہم کیا گیا تھا جب کہ سعد رضوی کو نظر بند کرنے کا حکومتی فیصلہ قانونی طور پر درست ہے۔ حکومت پنجاب نے درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ سعد رضوی کو رہا کرنے کے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔

لاہور ہائی کورٹ

یاد رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے یکم اکتوبر کو علامہ سعد رضوی کی نظر بندی کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ جسٹس طارق سلیم شیخ نے سعد رضوی کے چچا امیر حسین کی درخواست پر فیصلہ سنایا تھا۔ عدالت میں سعد رضوی کے چچا کے وکیل برہان معظم ملک نے دلائل دیئے، جب کہ پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت کے وکلا نے درخواست کی مخالفت کی تھی۔ بعد ازاں 9 اکتوبر کو ڈپٹی کمشنر لاہور نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ کی رہائی کا حکم دیا تھا۔

ڈپٹی کمشنر کے حکم میں ہائی کورٹ کے علاوہ سپریم کورٹ کے وفاقی جائزہ بورڈ کے حراست کے حوالے سے لیے گئے پہلے دو فیصلوں کا حوالہ بھی دیا تھا۔ اس میں کہا گیا کہ سعد رضوی کی نظر بندی میں توسیع کے لیے بورڈ کے سامنے 29 ستمبر کو ایک ریفرنس دائر کیا گیا تھا اور بورڈ نے 2 اکتوبر کو ٹی ایل پی سربراہ کی حراست کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع کی تھی۔

اس وقت ڈپٹی کمشنر لاہور نے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے سیکشن 11-ای ای ای (مشتبہ افراد کو گرفتار اور حراست میں لینے کے اختیارات) کے تحت ایک نیا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا اور سعد رضوی کو مزید 90 دنوں کے لیے حراست میں لے لیا گیا تھا۔

TLP chief Saad Rizvi reportedly released from custody

سعد رضوی کی گرفتاری

ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کو ان کی جماعت کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر فرانس کے سفیر کی ملک بدری کے مطالبے کے سلسلے میں ملک بھر میں جاری دھرنوں کے بعد 12 اپریل 2021 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ دھرنوں کے دوران مشتعل مظاہرین نے سرکاری املاک کو نقصان اور پولیس سمیت عام افراد پر حملے کیے تھے۔ سرکاری سطح پر گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر مسلم دنیا میں سخت ردعمل آیا تھا، خاص طور پر پاکستان میں بھی اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی تھی اور تحریک لبیک پاکستان نے اسلام آباد میں احتجاج کیا تھا جسے حکومت کے ساتھ 16 نومبر 2020 کو معاہدے کے بعد ختم کردیا گیا تھا۔ تاہم مطالبات کی عدم منظوری پر تحریک لبیک نے 16 فروری کو اسلام آباد میں مارچ اور دھرنے کا اعلان کیا تھا۔

بعد ازاں مہلت ختم ہونے کے باوجود حکومت کی جانب سے مطالبات کی عدم منظوری اور معاہدے پر عملدرآمد نہ کیے جانے پر تحریک لبیک نے 20 اپریل کو ملک گیر مظاہرے کیے تھے جس کے بعد سعد رضوی کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ملک بھر میں پرتشدد مظاہروں کے سبب حکومت نے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کردی تھی۔ واضح رہے کہ نظر ثانی بورڈ نے 2 جولائی کو سعد رضوی کی نظربندی میں توسیع کے لیے حکومتی درخواست مسترد کر دی تھی۔ توسیع نہ ہونے پر سعد رضوی کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت 10 جولائی کو دوبارہ نظر بند کر دیا گیا تھا جس کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔

TLP

SAAD RIZVI

Tabool ads will show in this div