سعدرضوی کی رہائی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج، سماعت آج ہوگی

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کا2رکنی بینج سماعت کریگا

پنجاب حکومت نے کالعدم مذہبی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ حافظ سعد حسین رضوی کی رہائی کے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔ عدالت عظمیٰ کی جانب سے درخواست پر سماعت آج بروز منگل 12 اکتوبر کو ہوگی۔

لاہور ہائیکورٹ نے ٹی ایل پی کے سربراہ سعد حسین رضوی کے چچا کی درخواست پر ان کی نظر بندی کا  نوٹیفکیشن یکم اکتوبر کو کالعدم قرار دیتے ہوئے فوری رہا کرنے کا حکم دیا تھا، جسے پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کردیا۔

رپورٹ کے مطابق پیر کو سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں پنجاب حکومت نے سعد رضوی کے چچا کو ہی فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے سعد رضوی کو رہا کرنے کے حکم میں قانونی تقاضے پورے نہیں کئے گئے، عدالتِ عالیہ کو کیس سے متعلق تفصیلی ریکارڈ فراہم کیا گیا تھا۔

پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ سعد رضوی کی نظربندی کا حکومتی فیصلہ قانونی طور پر درست ہے۔ عدالت عظمیٰ سے یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ سعد رضوی کی رہائی کے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔

مزید جانیے: سعدرضوی کانام فورتھ شیڈول میں شامل،شناختی کارڈ بلاک،اکاؤنٹس منجمد

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں یہ کیس جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ کریگا۔

لاہور ہائیکورٹ کے حکم کے بعد ضلعی انتظامیہ نے کالعدم ٹی ایل پی سربراہ سعد رضوی کی کوٹ لکھپت جیل سے رہائی کے احکامات جاری کئے تھے تاہم ان کی رہائی عمل میں نہیں آئی تھی۔

سعد حسین رضوی کو ان کے والد خادم حسین رضوی کے انتقال کے بعد تحریک لبیک پاکستان کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا، انہیں اولاً وفاقی حکومت کے احکامات پر ایم پی او (نقص امن عامہ) کے قانون کے تحت نظر بند کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں انسدادِ دہشت گردی کے قانون کی دفعہ 11 ٹرپل ای کے تحت انہیں جیل میں رکھا گیا، وہ اپریل 2021ء سے تاحال نظر بند اور زیر حراست ہیں۔

ٹی ایل پی کی جانب سے نومبر 2020ء میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے مطالبے کے ساتھ اسلام آباد میں دھرنا دیا گیا تھا، تاہم حکومت نے تحریک لبیک پاکستان کے سابق سربراہ خادم حسین رضوی سے 4 نکات پر معاہدہ کیا تھا، جن کے تحت حکومت کو 3 ماہ تک پارلیمان سے قانون سازی کے بعد فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنا تھا تاہم معاہدے پر عمل نہ ہونے کے بعد فروری 2021ء میں دونوں فریقین میں ایک اور معاہدہ ہوا، اور 20 اپریل تک فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے وعدے پر عمل کرنے کی مہلت دی گئی۔

حکومت نے 20 اپریل کی مہلت آنے سے قبل 12 اپریل کو سعد رضوی کو ایم پی او کے تحت نظر بند کردیا جس کے نتیجے میں ٹی ایل پی کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا، پرتشدد مظاہروں میں کئی افراد ہلاک و زخمی ہوئے اور حکومت نے اس تنظیم کو کالعدم قرار دیدیا۔

TLP

SAAD RIZVI

Tabool ads will show in this div