طالبان سےمنشیات کےعادی سخت نالاں،تنہا نہ چھوڑنےکابھی شکوہ

مقصد زیادتی نہیں ان کا علاج کروانا ہے،طالبان

کابل میں منشیات کے عادی افراد کا کہنا ہے کہ طالبان انہیں تنہا نہیں چھوڑتے اور انہیں مارنے کے علاوہ کچھ نہیں کرتے۔

افغان میڈیا کے مطابق منشیات کے عادی ایک شخص کا کہنا ہے کہ جب سے طالبان آئے ہیں انہوں نے ہمیں باہر جانے کی اجازت نہیں دی جہاں دیکھتے ہیں ہمیں جانوروں کی طرح مارتے ہیں۔

مقامی طالبان حکام کا کہنا ہے کہ سختی کا مقصد نشے کے عادی افراد کے ساتھ زیادتی کرنا نہیں بلکہ انہیں اسپتالوں میں واپس بھیجنا ہے۔

ایک طالبان عہدیدار مولوی فضل اللہ نے کہا کہ ہم انہیں پکڑ کر اسپتالوں میں لے جاتے ہیں اور جو ٹھیک ہوجاتا ہے اسے آزاد کردیتے ہیں۔

طالبان اس مقصد کے لیے خاص قسم کی گاڑیوں کا استعمال کررہے ہیں جو نشے کے عادی افراد کو پکڑ کر اسپتالوں تک پہنچاتے ہیں۔

ماہر صحت محمد حنیف پوپل کا کہنا ہے کہ ہم ان لوگوں کا دو مرحلوں میں علاج کرتے ہیں پہلے مرحلے میں ان کی جسمانی بیماریوں اور زخموں کا علاج کیا جاتا ہے اور دوسرے مرحلے میں ان کو ماہرین نفسیات کے حوالے کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دوران علاج نشے کے عادی افراد کو اپنے خاندان والوں سے بھی ملنے کی اجازت ہوتی ہے۔

KABUL

Drug edicts

Tabool ads will show in this div