قندوز: نمازجمعہ کے دوران مسجد میں دھماکا، متعدد نمازی شہید

جاں بحق افراد کی تعداد میں اضافے کا خدشہ
Oct 08, 2021

افغانستان کے شہر قندوز کے علاقے خان آباد میں مسجد اخوندزاد میں نماز جمعہ کے دوران دھماکے میں کم از کم 50 نمازی شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے۔

افغان میڈیا کے مطابق قندوز میں نماز جمعہ کے وقت دھماکے میں نمازیوں کی ایک بڑی تعداد زخمی ہوئی ہے جبکہ کافی شہادتوں کا بھی خدشہ ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دھماکے میں 50 نمازی شہید ہوچکے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے وقت مسجد کے اندر نمازیوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

مقامی ذرائع کے مطابق جائے وقوعہ سے ریسکیو حکام نے متعدد لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا ہے۔

افغان میڈیا کی جاری کردہ فوٹیج میں بھی جائے وقوعہ پر زخمی حالت میں پڑے متعدد افراد کو دیکھا جاسکتا ہے۔

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے قندوز میں دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ واقعے میں متعدد افراد جاں بحق ہوگئے ہیں اور طالبان اسپیشل فورس نے علاقے میں تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

قندوز صوبے کے ڈپٹی پولیس چیف دوست محمد عبیدہ کا کہنا ہے کہ نمازیوں میں اکثریت شہید ہوگئے، ممکنہ طور پر حملہ خودکش بمبار نے کیا جو نمازیوں میں شامل ہوگیا ہوگا۔

طالبان پولیس کا کہنا ہے کہ مسجد میں دھماکے میں 100 سے زائد افراد ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔

ڈائریکٹر کلچر اینڈ انفارمیشن قندوز نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے دھماکے کو خودکش قرار دیا، ان کا کہنا تھا کہ اب تک تحقیقات کے مطابق یہ ایک خودکش حملہ تھا۔

دھماکے کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی  تاہم اس سے قبل اس قسم کے واقعات میں داعش ملوث رہی ہے۔

کابل ایئرپورٹ کے باہر 26 اگست 2021ء کو ہونیوالے خوفناک بم دھماکے میں 13 امریکی فوجیوں سمیت 169 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے، اس واقعے کی ذمہ داری بھی داعش نے قبول کی تھی۔

Kanduz

Afghanistan Blast