بلوچستان حکومت: کیا تاریخ خود کو دہرارہی ہے؟

سماء کے پروگرام سات سے آٹھ میں بلوچستان کی صورتحال پربحث

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کو اس وقت ثناء اللہ زہری کی طرح حکومتی جماعت کے اندر سے مخالفت کا سامنا ہے اور کابینہ کے 2 مشیر، 3 وزراء اور 4 پارلیمانی سیکرٹری احتجاجاً مسعفی ہوچکے ہیں۔

پروگرام سات سے آٹھ میں گفتگو کرتے ہوئے ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ جام کمال نہ استعفیٰ دیں گے اور نہ وہ اس بارے میں سوچ رہے ہیں۔

لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ جام کمال واضح الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ ہماری حکومت 41 اراکین پر مشتمل ہے اور حکومتی اراکین کی اکثریت ان کے خلاف ہوجانے کی صورت میں ہی وہ استعفیٰ دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت بلوچستان اسمبلی میں 41 حکومتی اراکین میں سے 27 اراکین نے وزیراعلیٰ جام کمال پر اعتماد کا اظہارکیا ہے۔

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رکن بلوچستان اسمبلی اور سابقہ وزیر اسداللہ بلوچ کا کہنا تھا کہ 65 رکنی ایوان میں جام کمال کے ساتھ صرف 25 اراکین کی اکثریت ہے اور وہ اخلاقی اور قانونی لحاظ سے اکثریت کھوچکے ہیں۔

اسداللہ بلوچ کا کہنا تھا کہ بلوچستان اسمبلی میں اکثریت کے لیے 33 اراکین کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر جام کمال سمجھتے ہیں کہ اکثریت ان کے پاس ہے تو وہ اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم 3 سال سے جام کمال کو کہہ رہے ہیں کہ یہ بادشاہت نہیں جمہوری حکومت ہے اور آپ کو سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے مگر انہوں نے اس بات کو نظر انداز کردیا۔

اسداللہ بلوچ کا کہنا تھا کہ کل صوبائی کابینہ اجلاس میں صرف 8 وزیروں نے شرکت کی تھی اور ہم عنقریب جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کریں گے۔

JAM KAMAL

CM BALOCHISTAN JAM KAMAL KHAN

Tabool ads will show in this div