بلوچستان: صوبائی کابینہ کے 3وزراء، 2مشیر مستعفی ہوگئے

استعفے گورنر بلوچستان کو جمع کرا دیے
Oct 07, 2021
فوٹو: ٹویٹر
فوٹو: ٹویٹر
فوٹو: ٹویٹر
فوٹو: ٹویٹر
[caption id="attachment_2401329" align="alignnone" width="800"]Five-Balochistan-cabinet-members-decide-to-resign_akhbar فوٹو: ٹویٹر[/caption]

بلوچستان میں صوبائی کابینہ کے تین وزراء، دو مشیروں اور چار پارلیمانی سیکریٹریز نے استعفے دے دیے۔

بلوچستان عوامی پارٹی اور اتحادی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ناراض اراکین اسمبلی استعفے دینے کے لیے گورنر ہاؤس پہنچے اور گورنر بلوچستان سید ظہور آغا کو جمع کرا دیے۔

استعفیٰ دینے والوں میں صوبائی وزیر عبدالرحمن کھیتران، میر اسد اللہ بلوچ اور ظہور بلیدی شامل ہیں جبکہ مشیروں حاجی محمد خان لہڑی اور اکبر آسکانی نے بھی استعفے دے دیے۔

صوبائی وزیر خزانہ ظہور بلیدی نے اپنی ٹویٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ جام کمال کی حکومت اپنا آئینی جواز کھو چکی ہے اور کل 40 میں سے 15 ایم پی ایز، وزراء اور مشیروں نے حکومت سے اپنی راہیں جدا کرلی ہیں۔

 اس کے علاوہ پارلیمانی سیکرٹریز، لیلیٰ ترین، بشریٰ رند، ماجیں شیران اور لالہ رشید بلوچ بھی مستعفی ہونے والوں میں شامل ہیں۔

واضح رہے کہ یکم اکتوبر کو وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کی صدارت سے دست بردار ہوگئے تھے جبکہ اس سے قبل انہوں نے جلد از جلد انٹرا پارٹی انتخابات کروانے کا اعلان کیا تھا۔

عدم اعتماد کی تحریک

بلوچستان میں اپوزیشن کے ساتھ ساتھ بلوچستان عوامی پارٹی کے بعض جام مخالف اراکین چاہتے ہیں وزیراعلیٰ بلوچستان مستعفی ہو جائیں لیکن جام کمال بھی ڈٹے ہوئے اور منصب چھوڑںے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

بلوچستان اسمبلی میں اراکین کی کل تعداد 65 ہے جن میں اپوزیشن میں شامل جمعیت علمائے اسلام کے 11، بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے 10، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا ایک اور ایک آزاد رکن ہے۔

حکومتی اتحاد میں بلوچستان عوامی پارٹی کے 24، تحریک انصاف کے 7، عوامی نیشنل پارٹی کے 4، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے دو دو ارکان جبکہ جمہوری وطن پارٹی اور پاکستان نیشنل پارٹی کا ایک ایک رکن شامل ہے۔

اسطرح حکومتی اتحاد کی کل تعداد 41 بنتی ہے اور اپوزیشن اتحاد کی کل تعداد 23 بنتی ہے۔ اسکے علاوہ ایک رکن ثناء اللہ زہری ہیں جو کہ کچھ عرصہ قبل مسلم لیگ ن سے پیپلزپارٹی میں شامل ہوئے ہیں۔

اپوزیشن کی جانب سے 24ستمبر کو وزیراعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروائی گئی تھی اور اسکے بعد انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں 10حکومتی ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ اگر حالیہ صورتحال میں انکا دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو جام کمال کی وزارت واقعی خطرے میں ہے۔

دوسری جانب جام کمال کی 6 سے 7 ناراض اراکین سے ملاقات بھی ہوئے ہے اور انہیں منانے کی کوشش کی گئی ہے۔ جام جمال نے یقین دلایا ہے کہ ناراض اراکین کے گلے شکوے دور کیے جائیں گے۔

جام کمال اگر ناراض اراکین کو منا لیتے ہیں تو انکے وزارت بچ جائے گی لیکن اگر جام کمال کامیاب نہیں ہوتے وزارت سے ہاتھ دھونے پڑیں گے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے پی ایس ڈی پی میں موجود 172ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز میں سے خطیر رقم وزراء کو دی ہے لیکن اسکے باوجود بھی ہو خوش نہیں ہیں۔

POLITICAL CRISIS