بلوچستان میں شدید زلزلہ،20 افراد جاں بحق،امدادی کارروائیاں جاری

ایف سی اور این ڈی ایم کے امدادی سرگرمیاں جاری

بلوچستان کے علاقے ہرنائی، مسلم باغ،  قلعہ سیف اللہ اور سبی میں زلزلے سے 20 افراد جاں بحق، جب کہ 300 سے زائد زخمی ہوگئے۔ ہرنائی، شاہرگ میں بڑی تباہی ہوئی، جہاں سوئے افراد پر چھتیں، مکانات گر پڑے، مرنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

زلزلہ پیما مرکز

زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 5.9 ریکارڈ کی گئی ہے۔ زلزلے کی گہرائی کلو میٹر تھی۔ نیشنل سیسمک مانیٹرنگ سینٹر کے مطابق زلزلے کا مرکز صوبے کے ضلع ہرنائی کے قریب 15 کلومیٹر گہرائی میں تھا۔

پی ڈی ایم اے کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا کہ زلزلے کے جھٹکے کوئٹہ، سبی، پشین، مسلم باغ، زیارت، قلعہ عبداللہ، سنجوانی، ژوب اور چمن میں بھی محسوس کیے گئے۔

زلزلے سے نقصان

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زلزلے کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کا درست اندازہ لگا رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل نصیر احمد نے بتایا کہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات ہوئے ہیں، ہرنائی کے 15 کلومیٹر تک کے علاقے میں مکانات تباہ ہوگئے ہیں اور ریسکیو ٹیمیں امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہی ہیں۔

ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے کے مطابق جاں بحق افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، زخمیوں کا علاج ٹارچ اور موبائل فون کی روشنیوں میں کیا جا رہا ہے۔ کوئٹہ اور ہرنائی کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ زلزلے کے نتیجے میں سرکاری عمارات کو بھی نقصان پہنچا۔

این ڈی ایم اے اور فرنٹیئر کور

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں زلزلہ متاثرین کی امداد کیلئے فرنٹیئر کور اور این ڈی ایم اے کی ٹیمیں پہنچ گئیں۔ فرنٹیئر کور کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں طبی کیمپس لگا کر زخمی افراد کو طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جب کہ شدید زخمیوں کو آرمی ہیلی کاپٹر کے ذریعے کوئٹہ منتقل کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کے مطابق ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، پی پی ایچ آئی، ضلعی انتظامیہ اور دیگر امدادی ادارے الرٹ پر ہیں۔ ہرنائی کے متاثرہ علاقوں میں طبی امداد کے لیے ایمبولینسز، ایمرجنسی اسسٹنٹ اور ہیلی کاپٹر کا استعمال کیا رہا ہے۔

ڈی سی ہرنائی

ڈی سی ہرنائی کا کہنا تھا کہ ہرنائی، سبی اور شاہرگ میں کئی مکانات منہدم، متعدد افراد ملبے تلے دب گئے۔ ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ زلزلے کے باعث سرکاری عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔ کنٹرول روم ہرنائی سمیت صوبے کے تمام اضلاع سے رابطے میں ہے۔

وزیر داخلہ بلوچستان

وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو نے کہا کہ شدید زخمیوں کو کوئٹہ منتقل کیا جا رہا ہے۔ ایف سی، لیویز اور پولیس بھی امدادی کارروائیوں میں شریک ہے۔ ہرنائی میں بجلی کی بندش کے باعث امدادی کاموں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ہرنائی سنجاوی شاہراہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان علیانی نے بتایا ہے کہ ہرنائی میں تمام امدادی کارروائیاں اور انخلا کا عمل جاری ہے۔ ٹوئٹر پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ میڈیکل، مقامی انتظامیہ اور ڈیزاسٹر منیجمنٹ ٹیموں کو ہائی الرٹ اور موبلائز کردیا گیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ خون ، ہنگامی امداد، ہیلی کاپٹر اور دیگر تمام اشیا کا بندو بست کرلیا گیا ہے اور تمام محکمے اس سلسلے میں کام کررہے ہیں۔

اس سے قبل سال 2017 میں بلوچستان کے ساحلی علاقوں گوادر، پسنی مکران میں 6.3 شدت کا زلزلہ آیا تھا جس کے نتیجے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تھی۔

سال 2013 کا زلزلہ

قبل ازیں سنہ 2013 ستمبر کے مہینے میں ضلع آوران میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں بڑے پیمانئے پر تباہی ہوئی تھی۔ مذکورہ زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.7 ریکارڈ کی گئی تھی جس سے آوران کے 80 فیصد سے زائد کچے مکانات تباہ ہوگئے تھے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کے زلزلے سے متعلقہ حادثات میں خواتین اور بچو سمیت 515 افراد جاں بحق جبکہ 6 سو سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

سنہ 2005 کا زلزلہ

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 5 اکتوبر سنہ 2005  میں آنے والے زلزلہ کو کل بروز جمعہ 8 اکتوبر کو 16 سال مکمل ہونگے۔ اس زلزلے میں 85 ہزار افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

HARNAI

Tabool ads will show in this div