سی پیک کے قرضے 4فیصد پر لیے گئے، اسد عمر

پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کا حصہ ہے
Oct 06, 2021

Asad Umer Pc Isb 06-10

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/10/Asad-Umer-Pc-Isb-06-10.mp4"][/video]

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ سی پیک کے لیے قرضے 4 فیصد پر لیے گئے اسکے علاوہ چین کی جانب سے سی پیک کے کچھ منصوبے گرانٹ کی صورت میں بھی دیے گئے ہیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ بدقسمتی سے ڈس انفارمیشن پیدا ہوئی، کچھ عرصہ پہلے 2 رپورٹس پیش کی گئیں اور سی پيک پرايسی خبريں پھيلائی جاتی ہيں جس سےغلط تاثر پھيل رہا ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کا حصہ ہے، خسارے بڑھنے کی وجہ چین کی جانب سے قرضے نہیں ہیں۔ چین کی جانب سے سی پیک کے کچھ منصوبے گرانٹ کی صورت میں بھی دیے گئے۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ مغربی اداروں یا عالمی مالیاتی اداروں کے مقابلے چین سے سستے قرضے ملے، یہ قرضے 3.3 فیصد سے لے کر 4.75 فیصد ریٹ پر لیے گیے۔ چینی قرضے مجموعی قرضوں کا 10 فیصد ہے اور مجموعی اندرونی و بیرونی قرضوں اور واجبات کا 26 فیصد بنتا ہے۔

اسد عمر کے مطابق مغربی دنیا اور ممالک سے 74فیصد قرضے لیے گئے جب 74 فیصد قرضوں سے خطرہ نہیں تو 26 فیصد سے کیسے ہوگیا۔

انہوں نے کہا کہ انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے چین سے 20 سالہ مدت کا قرضہ لیا گیا اس میں 5 سال کا گریس پیریڈ بھی شامل ہے اُن کے مطابق چین کو ماضی میں زیادہ ریٹ آف ریٹرن آفر کیا گیا اور موجودہ حکومت میں گزشتہ دور کی نسبت سی پیک پر زیادہ کام ہوا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ووکيشنل ٹريننگ انسٹيٹيوٹ گوادر ميں مکمل ہوگيا، ملک میں موجود آئی پی پیز کو یکساں اسٹرکچر ملتا ہے۔

اسد عمر نے کہا کہ بجلی منصوبوں اور ٹيرف سے متعلق معلومات نيپرا کے پاس موجود ہيں اور سينٹرل پاور پرچيزنگ کمپنی حکومت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ سی پیک میں دوسرے ممالک کی شرکت کا خیر مقدم کریں گے۔

ASAD UMAR

Tabool ads will show in this div