ایون فیلڈریفرنس:فیصلہ کالعدم قرار دینے کی درخواست پر اعتراض عائد

درخواست ایڈووکیٹ عرفان قادر نے دائر کی
فائل فوٹو

ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا پانے والی پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز کی جانب سے ریفرنس کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کے خلاف دائر درخواست پر دو اعتراض عائد کیے گئے ہیں۔

مریم نواز کی درخواست پر اعتراض اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے عائد کئے۔ اپنے اعتراض میں رجسٹرار آفس کا کہنا تھا کہ مریم نواز نے اس درخواست میں وہی استدعا کی جو مرکزی اپیل میں کی۔ مریم نواز اپیل میں فریش گراؤنڈز کورٹ کی اجازت سے ہی لے سکتیں ہیں۔

رجسٹرار ہائی کورٹ کی جانب سے مریم نواز کی متفرق درخواست پر اعتراضات سے متعلق وکلا کو آگاہ کردیا گیا ہے۔ متفرق درخواست بدھ 6 اکتوبر کو اسپیشل بینچ کے سامنے اعتراضات کے ساتھ مقرر ہوگی۔

جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کا خصوصی بینچ سماعت کرے گا۔

واضح رہے کہ بروز منگل 5 اکتوبر ن لیگی رہنما مریم نواز کی جانب سے وکیل ایڈووکیٹ عرفان قادر نے ہائی کورٹ میں درخواست جمع کرائی تھی۔ درخواست میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی تقریر کو بھی حصہ بنایا گیا۔

مریم نواز کی جانب سے درخواست میں عدالت سے شوکت عزیز صدیقی کے انکشافات کی روشنی میں بریت کی استدعا کی گئی۔ درخواست کے متن کے مطابق شوکت عزیر صدیقی کی تقریر نے ساری کارروائی مشکوک بنادی ہے۔ ٹرائل کی ساری کارروائی، ریفرنس فائل کرنے کے احکامات بھی دباؤ کا نتیجہ ہو سکتے ہیں۔ نیب کے لئے لازم ہوتا ہے کہ وہ شفاف طور پر کارروائی کرے۔

درخواست میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ احتساب عدالت نے 6 جولائی 2017 کو ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا سنائی تھی جو پاکستان کی تاریخ میں سیاسی انجینیرنگ اور قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کی پرانی مثال ہے۔ درخواست میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے بار سے خطاب کا بھی حوالہ دیا گیا۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ جج نے اپنی تقریر میں کہا کہ چیف جسٹس سے رابطہ کیا گیا کہ ہم نے الیکشن تک نواز شریف اور اس کی بیٹی کو باہر نہیں آنے دینا۔ جج کے مطابق چیف جسٹس نے عہدیداروں کو کہا کہ جس بینچ سے آپ مطمئن ہیں وہ بینچ بنا دیتے ہیں۔ جسٹس شوکت صدیقی کے بیان سے عدالتی فیصلے کے غیر جانبدارانہ ہونے پر شکوک و شبہات پیدا ہوئے، جج ارشد ملک کی بھی ویڈیو وائرل ہوئی کہ ان پر نواز شریف کو سزا سنانے کے لیے بے حد دباؤ تھا۔

درخواست میں استدعا کرتے ہوئے ہوئے مریم نواز شریف نے کہا کہ عدالت قانون کی ان سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے، تمام الزامات سے بری اور سزا کالعدم قرار دے۔

درخواست میں مریم نواز شریف نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ نے اس کیس میں تفتیش کو سپروائز کیا۔ سپریم کورٹ نے پراسیکیوشن کی بھی اس کیس میں مانیٹرنگ کی۔ سپریم کورٹ نے ایک طرح سے اس کیس میں پورا عمل ہی کنٹرول کیا۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی ایسا کسی کیس میں نہیں کیا گیا۔ سپریم کورٹ کا آئین میں کردار نہ تفتیش کار کا ہے نہ ہی پراسیکیوٹر کا۔ احتساب عدالت کے جج کے نوٹس میں یہ حقائق کیوں نہ آئے وجہ انہیں ہی معلوم ہوگی۔ شریف فیملی کیخلاف مقدمات پر اثرانداز ہونے کا ثبوت ارشد ملک کی ویڈیو بھی ہے۔

دائر درخواست کے مطابق اثاثوں کے الزام میں تین الگ ریفرنس دائر کرنا بھی قانون کی خلاف ورزی تھی۔ قانون کی نظر میں ساری کارروائی مشکوک ہو چکی۔ جب کہ درخواست کے متن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ متعلقہ مواد درخواست سے منسلک، مزید حقائق سامنے آنے پر بھی پیش کئے جائیں گے۔

MARYAM NAWAZ

AVENFIELD

Tabool ads will show in this div