چمن:پاک افغان بارڈربند،تجارت معطل،پیدل آمدورفت متاثر

تجارتی سامان کی ترسیل میں تاجروں کو مشکلات کا سامنا

افغانستان کی جانب سے چمن بارڈر کو مکمل طور پر بند کرنے کے بعدپاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت اور پیدل آمدورفت بھی بند کردی گئی۔

منگل کی صبح افغانستان کی جانب سے پاک افغان بارڈر کوبند کردیا گیا۔ افغان طالبان کی جانب سے گذشتہ رات کو منگل کے دن چمن بارڈر کو ہر قسم کی آمدورفت اور تجارت کے لئے بند کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

افغان طالبان کا کہنا تھا کہ چمن پاک افغان بارڈر پر پاکستان اور سابق افغان حکومت کے درمیان جو معاہدے ہوئے تھےان پرعمل نہیں کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے چمن بارڈر پر پیدل چلنے والے افراد اور تجارتی سامان کی ترسیل میں تاجروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

افغان طالبان نے مزید بتایا کہ چمن بارڈر کے راستے سفر کے لئے صرف پاکستانی سفری دستاویزات کو مانا جارہا ہے جبکہ افغانستان کے سفری دستاویزات پرکسی کو سفر کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔

افغان میڈیا پر جاری خبروں کے مطابق افغانستان کی جانب سے باب دوستی گیٹ میں پیدل چلنے والے افراد اور تجارتی سامان کے ٹرکوں کے راستے میں سیمنٹ کے بلاکس رکھ  دیے گئے ہیں اور راستے کو مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے۔

اس بندش کے باعث سرحد کے دونوں طرف مال بردار ٹرکوں اور پیدل چلنے والوں کی بڑی تعداد جمع ہے۔ پاکستانی سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی کی جانب سے چمن پاک افغان بارڈر کو بند نہیں کیا گیا ہے اور یہ فیصلہ افغانستان کی جانب سے یک طرفہ طور پر لیا گیا ہے۔

چمن کے مقامی تاجروں کی جانب سے پاک افغان بارڈر کی بندش پر تشویش کا اظہار کیا گیا کیوں کہ اس اقدام سےتاجروں کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔

چمن چمبرآف کامرس کے سینئر رہنماء عبدالنافع جان اچکزئی نے بتایا کہ پاک افغان بارڈر کی بندش کی وجہ سے پاکستانی تاجروں کو بھاری مالی نقصان ہوگا کیونکہ افغانستان سے تازہ پھل تاجروں نے خریدے ہوئے ہیں اور ان کو سرحد کے راستے پاکستان لایا جاتا ہے۔ انھوں نے اپیل کی کہ پاک افغان سرحد کی بندش کسی مسئلے کا حل نہیں اوراس معاملے پربات چیت ہونی چاہئے۔

CHAMAN

Tabool ads will show in this div