ایران اور پاکستان کے درمیان تجارت دوبارہ شروع

کرونا کےباعث ایرانی سرحدیں 29اپریل کو بندکی گئی تھیں
فوٹو: اے ایف پی
فوٹو: اے ایف پی
[caption id="attachment_2398989" align="alignnone" width="512"]PAKISTAN-IRAN-CHINA-HEALTH-VIRUS فوٹو: اے ایف پی[/caption]

ایران نے تفتان چیک پوسٹ پاکستان کے ساتھ اپنی سرحد کو تین ماہ بعد جزوی طور پر دوبارہ کھول دیا، جس سے صرف تاجروں، طلباء اور ٹرک ڈرائیوروں کو داخلے کی اجازت دی گئی۔

 سرحد پر سکیورٹی حکام نے بتایا کہ سرحد اب بھی زائرین اور سیاحوں کے لیے بند ہے۔ ان کے مطابق وفاقی امیگریشن ایجنسی (ایف آئی اے)  کی جانب سے پاکستانی حدود میں امیگریشن کا باقاعدہ طریقہ کار شروع کر دیا ہے جسکے بعد پاکستانی شہری ایران میں داخل ہو رہے ہیں۔

ایرانی حکام نے 29 جون کو کرونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے بعد سرحدیں بند کر دی تھیں اور پاکستانی شہریوں کی ایران داخلے پر پابندی عائد کر دی تھی تاہم پاک ایران ٹرانزٹ ٹریڈ جاری تھی۔

ایران کی ایرنا نیوز ایجنسی کے مطابق ایران اور پاکستان نے تفتان بارڈر کراسنگ پر زیرو پوائنٹ گیٹ کو تین ماہ کی بندش کے بعد دوبارہ کھول دیا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ڈیوٹی فری تجارت کو آسان بنایا جا سکے۔

ایران اور پاکستان نے باضابطہ طور پر پچھلے سال دسمبر اور رواں سال اپریل میں بالترتیب ریمدان (گیبڈ) اور ضلع پشین منڈ میں بالترتیب دوسری اور تیسری بارڈر کراسنگ کھولی۔ کراسنگ کا افتتاح ایران کے وزیر سڑکوں اور شہری ترقی محمد اسلامی اور وزیر دفاعی پیداوار زبیدہ جلال کی موجودگی میں کیا گیا۔

دونوں ممالک نے مشترکہ سرحدی منڈیوں کے قیام اور سرحد پار اقتصادی تبادلے کو مضبوط بنانے کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے۔

pak iran border

Tabool ads will show in this div