پنڈورا پيپرز ميں اہم بین الاقوامی سربراہان کےنام بھی شامل

زیادہ تعداد یوکرین کے 38سیاستدانوں کی ہے
Oct 04, 2021
فوٹو: اے ایف پی
فوٹو: اے ایف پی

Pandora-Papers_generic artwork

پنڈورا پيپرز ميں بہت سے سربراہان مملکت کے نام بھی سامنے آئے ہيں جن میں اردن کے شاہ عبداللہ اور قطر کے حکمرانوں کی آف شور کمپنياں بھی شامل ہیں۔

سابق برطانوی وزيراعظم ٹونی بليئر کے نام پر بھی آف شور کمپنی بنائی گئی۔ يوکرين، کينيا اور ايکواڈور کے صدور جبکہ چيک ری پبلک اور لبنان کے وزرائے اعظم کی آف شور کمپنياں بھی پنڈورا پيپرز ميں موجود ہيں۔

تاريخ کا سب سے بڑا آف شور ڈيٹا ليک ہوا جس ميں 90ملکوں کے 336 سياستدانوں کے آف شور اکاؤنٹس بھی شامل ہيں۔

فہرست ميں سب سے زيادہ تعداد يوکرین کے 38 سياستدانوں کی ہے۔ روس 19، کولمبيا 11، نائيجيريا 10، انگولا اور برازيل 9، 9، قزاقستان 8، بھارت 6، سعودی عرب 5 جبکہ چين اور ملائیشيا کے دو دو سياستدان فہرست ميں شامل ہيں۔

برطانوی شہری پہلی پوزيشن پر ہيں۔ ایک چوتھائی سے زیادہ فرمز برطانوی شہريوں کی ملکیت ہیں ليکن برطانيہ اور شمالی آئر لينڈ کے صرف 9 سياستدانوں کی آف شور کمپنياں يا بيرون ملک جائيداديں ہيں۔

برطانيہ کے بعد نائيجيريا، بھارت اور روس کا نمبر آتا ہے۔ بیشتر جائیدادیں ان کمپنیوں کی ملکیت ہیں جو برٹش ورجن آئی لینڈ میں شامل ہیں۔

اسکے علاوہ 681 پچھلے گمنام بینیفشل اونرز کا بھی پتا لگایا گيا۔ ان جائیدادوں کی قیمت ساڑھے پانچ ارب ڈالرز سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔

پاکستانیوں کا پانچواں نمبر

پنڈورا پيپرز کے مطابق لندن ميں جائيداديں خرينے والوں ميں پاکستانيوں کا پانچواں نمبر ہے۔ فہرست ميں 700 پاکستانيوں کے نام ہيں ليکن ان ميں صرف 7 سياستدان ہيں باقی 693 افراد تاجر و صنعتکار، ريٹائرڈ جرنيل، بيوروکريٹس اور ريٹائرڈ سرکاری افسران ہيں جن کی آف شور کمپنياں يا بيرون ملک جائيداديں ہيں۔

پاکستانیوں میں وزیر خزانہ شوکت ترین، وفاقی وزیرمونس الٰہیٰ اور سینیٹر فیصل واؤڈا کی آف شور کمپنیاں سامنے آئیں۔ ان کےعلاوہ آئی سی آئی جے کی تحقیقات میں پنجاب کے سابق وزیرعبدالعلیم خان، مسلم لیگ ن کے رہنما اسحاق ڈار کے بیٹے، پیپلز پارٹی کے شرجیل میمن اور وفاقی وزیر صنعت خسرو بختیار کی اہل خانہ کی آف شور کمپنیاں بھی پنڈورا پیپرز میں سامنے آئی ہیں۔

آف شور کمپنیز بنانے والوں میں وزیراعظم کے سابق معاون خصوصی وقار مسعود کے بیٹے، ایگزیکٹ کےمالک شعیب شیخ، ریٹائرڈ فوجی افسران، میڈیا ہاؤسز مالکان، بینکرز و کاروباری حضرات بھی شامل ہیں۔

وفاقی وزیرصنعت خسرو بختیار کے بھائی عمر بختیار نے 2018 میں ایک آف شور کمپنی کے ذریعے لندن کے علاقے چیلسی میں 1 ملین ڈالر کا اپارٹمنٹ اپنی والدہ کو منتقل کیا تھا۔

آئی سی آئی جے کی رپورٹ کے مطابق معروف کاروباری شخصیت اور پی ٹی آئی کے ڈونر طارق شفیع نے آف شور کمپنیوں کے ذریعے 215 ملین ڈالر خردبرد کیے۔

سابق ریٹائرڈ فوجی افسران کے نام

پنڈورا پیپرز نے انکشاف کیا ہے کہ 2007 میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے سابق معاون جنرل شفاعت اللہ شاہ کی اہلیہ نے لندن میں 1.2 ملین ڈالر کا ایک اپارٹمنٹ غیرملکی لین دین کے ذریعے حاصل کیا۔ ان کے علاوہ ایک اور آرمی کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کرنل اور سابق وزیر راجہ نادر کا نام بھی شامل ہے۔

سال 2009 میں آئی ایس آئی کے میجر جنرل نصرت نعیم بھی شامل ہیں جن پر اسلام آباد پولیس 1.7 ملین ڈالر میں اسٹیل مل خریدنے کی کوشش سے متعلق دھوکہ دہی کا الزام بھی عائد کرچکی ہے۔ اسی طرح پاک فضائیہ کےسابق سربراہ عباس خٹک کے بیٹوں عمر اور احد خٹک کا نام بھی پنڈورا پیپرز میں شامل ہے۔

واضح رہے کہ اگر قانون کے مطابق آف شور کمپنی ڈکلیئر کی گئی ہو اور وہ کمپنی کسی غیرقانونی کام کیلئے استعمال نہ ہو تو آف شور کمپنی بنانا بذات خود کوئی غیرقانونی عمل نہیں ہے۔

PANDORA PAPERS