نیپرا کا بجلی کی قیمت میں اضافہ

فیصلے کا اطلاق یکم اکتوبر سے کردیا گیا ہے
Oct 04, 2021
[caption id="attachment_2242394" align="alignnone" width="680"]Electricity فوٹو: اے ایف پی[/caption]

نیپرا نے مالی سال 2019-20 اور 2020-21 کی3 سہہ ماہی ایڈجسٹمنٹس کی مد میں بجلی مہنگی کردی ہے۔

نوٹیفیکشن کے مطابق نیپرا نے بجلی ایک سال کیلیے 1 روپے 72 پیسے مہنگی کردی جس کے بعد بجلی اوسط قیمت 16 روپے 44  پیسے سے بڑھ کر 18 روپے 16 پیسے فی یونٹ ہوگئی ہے۔

بجلی میں اضافے کے فیصلے کے بعد بجلی صارفین پر 90 ارب روپے سے زائد کا اضافی بوجھ پڑے گا، فیصلے کا اطلاق 300 یونٹس سے زائد بجلی استعمال کرنے والوں پر ہوگا جو کُل صارفین کا 80 فیصد بنتے ہیں۔

نیپرا اتھارٹی کے مطابق قیمت میں اضافے کا اطلاق یکم اکتوبر2021 سے کردیا گیا ہے، تاہم کےالیکٹرک صارفین پر فیصلے کا اطلاق نہیں ہوگا۔

واضح رہے نیپرا کی جانب سے 15 ستمبر کو رواں سال کے دوران فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں عوام سے 193 ارب روپے سے زائد اضافی وصولیوں کا انکشاف ہوا تھا۔

نیپرا دستاویزات کے مطابق جنوری سے جولائی 2021 کے دوران بجلی کی پیداواری لاگت میں اضافے کے باعث فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں صارفین سے 193ارب 49کروڑ روپے اضافی وصول کیے گئے۔ اس عرصے میں 48 ارب 74 کروڑ یونٹ بجلی مجموعی طور پر 3روپے 97پیسے فی یونٹ مہنگی فروخت کی گئی۔

نیپرا دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ مئی میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 26 پیسے جبکہ جون میں 19 پیسے فی یونٹ سستی بھی ہوئی، تاہم اس سے صارفین کو بمشکل ساڑھے 4 ارب روپے کا ریلیف ہی مل سکا۔

نیپرا نے 10ستمبر کو ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ میکانزم کے تحت جولائی 2021 کے لیے بجلی کے نرخوں میں 1.38 روپے فی یونٹ اضافہ کیا تھا جس سے صارفین پر 21ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑا۔ یہ اضافہ ستمبر 2021 کے بل میں لائف لائن اور کے الیکٹرک کے صارفین کے علاوہ تمام صارفیں پر لاگو کیا گیا تھا۔

POWER TARRIF

Tabool ads will show in this div