پلوں کےنیچےکوئی چرسی نظرآئےتویہ اےاین ایف کی ناکامی ہے،چیف جسٹس

اسٹاف رپورٹ
کراچی : پاکستان کوسٹ گارڈ کے نمائندے نے بتایا کہ ادارے سے دو ہزار پانچ میں اسمگلنگ روکنے کے اختیارات واپس لے لئے گئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان کوسٹ گارڈ کے پاس قانون کے تحت اسمگلنگ روکنے کے تمام اختیارات ہیں۔ کراچی میں امن لانا ہے تو کام کرنا ہوگا ورنہ گھر جائیں، کوسٹ گارڈ کے سامنے اسمگلنگ ہوتی ہے اور کسی میں روکنے کی جرات نہیں۔ کراچی میں آگ لگی ہے اور کوسٹ گارڈ سوئی ہوئی ہے، اختیارات کا استعمال نہیں ہوا اور آج نتیجہ سامنے ہے۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کا بھارتی ماہی گیر پکڑنے کے سوا کیا کام ہے، کم از کم اپنا قانون تو پڑھ لیا جائے۔ آخر کوسٹ گارڈز کو اختیارات استعمال کرنے میں کیا رکاوٹ ہے۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ ایجنسیاں جدید آلات سے لیس ہیں لیکن اسمگلنگ نہیں روک سکتیں۔ یہ بڑے تعجب اور افسوس کی بات ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کوسٹ گارڈ اور ایم ایس اے کی رپورٹ دیکھی، لگتا ہے ان کا کام کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، سب نظر آرہا ہے لیکن بیٹھے مزے کر رہے ہیں، یہ مجرمانہ غفلت اور بے حسی کے سوا کچھ نہیں۔

جسٹس گلزار نے کہا کہ یہ مری ہوئی روحیں ہیں، چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ کہ پولیس، کسٹمز، کوسٹ گارڈ اور ایم ایس اے سب ملے ہوئے ہیں۔ سب مافیا بنے ہوئے ہیں اور خوب پیسے کما رہے ہیں۔ شہر کو بچانا ہے تو کالے دھن کو روکنا ہوگا، ملکوں کی معشیت پورٹ سٹی سے چلتی ہے۔ انہوں نے چیئرمین ایف بی آر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہ وہ اسلام آباد میں بیٹھ کر کیسے معیشت چلا رہے ہیں۔ سماء

کی

express

ایف

glass

songs

Tabool ads will show in this div