آئی بی اےنے ہراسمنٹ کی نشاندہی کرنے والےطالبعلم کوفارغ کردیا

محمد جبرائیل کی گریجویشن میں محض 2ماہ رہ گئے تھے
Sep 30, 2021

انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن آئی بی اے نے فائنل ایئر کے اس طالبعلم کو فارغ کردیا جس نے ادارے کے ایک ملازم کے ہاتھوں ملازمہ کے خلاف مبینہ ورک پلیس ہراسمنٹ کے واقعے کو فیس بک پر شیئر کردیا تھا۔ طالبعلم کو فارغ کرنے کے باعث آئی بی اے انتظامیہ سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا شکار ہے اور صارفین اپنے غصے کے اظہار کے علاوہ ادارے پر ہراسانی جیسے معاملے سے صرف نظر کا بھی الزام عائد کر رہے ہیں۔

متاثرہ طالبعلم محمد جبرائیل جو بی ایس معاشیات کر رہے تھے کا دعویٰ ہے کہ وہ فنانس ڈیپارٹمنٹ گئے تھے جہاں انہوں نے سپروائزری عہدے پر فائز ایک شخص کو خاتون اسٹاف رکن کو چلا کر یہ کہتے سنا "میں رات تک تمہیں بٹھاؤں گا"۔

جبرائیل کے وکیل جبران ناصر کا کہنا ہے کہ ایک طالعلم انضباطی کمیٹی کے فیصلے کے خلاف آئی بی اے بورڈ آف گورنرز میں اپیل کا حق رکھتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ ایک اپیل ڈرافٹگ کر رہے ہیں اور اس کے علاوہ گواہ اور ان کے بیانات بھی جمع کر رہے جنہیں پیر کو جمع کرا دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اگر بورڈ کا فیصلہ تسلی بخش نہ آیا تو پھر اس حوالے سے عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔

جبران نے کہا کہ چوں کہ جبرائیل کو گریجویشن مکمل کرنے میں دو ماہ ہی درکار ہیں اس لیے وہ اپیل میں یہ بھی دریافت کریں گے کہ بورڈ اس فیصلے میں کتنا وقت صرف کرتا ہے۔ جہاں تک آئی بی اے کی پالیسی کا تعلق ہے اس میں اپیل پر فیصلے کے لیے کسی ٹائم فریم کا کوئی تذکرہ موجود نہیں۔ جبران کا کہنا تھا کہ جبرائیل کی گریجویشن کا وقت آنے سے پہلے ہی اس اپیل کا نتیجہ سامنے آنا ضروری ہے۔

محمد جبرائیل نے 25 اگست کو فیس بک پر ایک پوسٹ شیئر کی تھی جس میں انہوں نے اس واقعے کو فنانس ڈپارٹمنٹ میں ورک پلیس ہراسمنٹ کا عنوان دیا تھا۔

جبرائیل کے مطابق انہوں نے متاثرہ خاتون کو آئی بی اے اینٹی ہراسمنٹ کمیٹی کو اپنی تحریری شکایت پیش کرنے کا مشورہ دیا تھا تاہم جبرائیل کی جانب سے سوشل میڈیا پر واقعہ شیئر کرنے کے بعد ادارے کی جانب سے ان کے خلاف ہی ایک انضباطی کمیٹی بنا دی گئی۔

جبران ناصر کے مطابق انظباطی کمیٹی نے جبرائیل سے ادارے میں ایک معافی نامہ جمع کروانے اور فیس بک سے اپنی پوسٹ ڈیلیٹ کرنے کی ہدایت کی تھی۔  اس کے بعد 26 اگست کو جبرائیل نے ایک اور پوسٹ اپ لوڈ کی تھی جس میں انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر آئی بی اے نے ہراسانی کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی نہ کی تو وہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے رجوع کریں گے۔

پھر 17 ستمبر کو جبرائیل نے ایڈمنسٹریشن بلاک کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا جس میں انہوں نے آئی بی اے سے انصاف کا مطالبہ کیا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے ایک پلے کارڈ بھی اٹھایا ہوا تھا جس پر 'ہراسانی کا ارتکاب کرنے والوں کو تحفظ دینا بند کرو' کا نعرہ تحریر تھا۔

جبران ناصر نے بتایا کہ اس مظاہرے پر آئی بی اے کی انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ کسی طالبعلم کو جامعہ سے نہیں نکالا جائے گا جس کے بعد مظاہرہ احتجاج کم ہوگیا تھا۔

انضباطی کمیٹی کی دوسری سماعت کے دوران جبرائیل نے اس سماعت کی کارروائی کی آڈیو ریکارڈنگ کی تھی اور اپنے ہمراہ 6 طلباء بطور گواہ بھی لے گئے تھے تاکہ کمیٹی اپنے بیان سے مکر نہ جائے۔

انتیس ستمبر کو آئی بی اے نے محمد جبرائیل کو جامعہ سے نکال دیے جانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس کی کاپی آن لائن بھی دستیاب کردی گئی تھی۔ نوٹیفکیشن میں جبران کے خلاف ادارے کے اصولوں سے روگردانی، اسے سوشل اور براڈکاسٹ میڈیا پر بدنام کرنے کے چارجز بھی عائد کیے تھے۔

جبران کا تعلق لکی مروت سے ہے اور وہ اسکالر شپ پر آئی بی اے میں زیر تعلیم تھے۔

دوسری جانب آئی بی اے انتظاميہ کا دعویٰ ہے کے ہراسانی معاملے کی تحقيقات ہورہی ہے اور جبرائيل سے بھی کہا گيا تھا کے فيس بک سے پوسٹ ہٹادے اور انتظاميہ کو رولز کے مطابق ہی شکایت کرے ليکن اس نے پوسٹ ڈيليٹ کرنے سے انکار کيا جس کے بعد کميٹی نے اسے نکالنے کا فيصلہ کيا۔

دریں اثناء سات سے آٹھ پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے طالب علم محمد جبرائيل کے وکیل اور سماجی کارکن جبران ناصر کا کہنا تھا کہ معاشرہ میں دو کمزور طبقات ہیں ایک خواتین جن کی ہراسمنٹ اور تحفظ سے متعلق نجی اداروں میں داد رسی نہیں ہوتی اور دوسرے طلباء جنہیں حق گوئی کا فن سکھانے کے بجائے جبر اور ناانصافی کے سامنے سر جھکانے کی تعلیم دی جارہی ہے۔

جبران ناصر کا کہنا تھا کہ طلباء کو یہ درس دیا جارہا ہے کہ جب طالب علم سرکاری یا نجی اداروں میں ملازمت اختیار کریں گے تو وہاں کرپشن اور ہراسمنٹ جسیے جرائم پر شور مچانے کے بجائے نطریں نیچی رکھیں۔

انہوں نے کہا طالب علم جبرائیل کو یونیورسٹی سے نکالنے کے بعد اب یہ کہا جارہا ہے کہ ہراسمنٹ کے معاملے کہ کمیٹی انکوائری کررہی ہے مگر اب تک انتظامیہ نے کوئی کارروائی کیوں نہیں کی اور جب خبر وائرل ہوگئی تو اب کہا جاہا ہے کہ ہم انکوائری کررہے ہیں۔

سماجی کارکن جبران ناصر کا کہنا تھا کہ ہمارے قول فعل میں تضاد ہے ہم بات طلباء کے حقوق اور خوتین کو مساوی مواقع دینے کا کرتے ہیں مگر جب عمل کی بات آجائے تو پھر روایات کے آگے سر نگوں ہوجاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت آئی بی اے جیسے معتبر ادارے پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں یونیورسٹی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے۔

جبران ناصر کا کہنا تھا کہ میرے معلومات کے مطابق جب متاثرہ خاتوں کے شکایت پر 3 ہفتے تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی اور شکایت کنندہ خاتون کو یہ تک کہا گیا کہ جبرائیل کو تو ڈسپلنری کمیٹی نے نکال دیا ہے اب آپ کسی اور گواہ کا بندوبست کرلیں۔

انہوں نے کہا کہ آئی بی اے انتظامیہ نے اپنے فیصلے سے اپنے تمام اسٹاف کو یہ پیغام دیا ہے کہ اگر بھرے ہال میں بھی آپ کے ساتھ ہراسمنٹ کا کوئی واقعہ پیش آجائے تو کسی گواہ کو دیکھ کر مطمئمن ہونے کی ضرورت نہیں کیوں کہ اسے ہم یونیورسٹی سے ہی نکال دیں گے۔

Harassment Case

IBA Karachi

Student expelled

Tabool ads will show in this div