کراچی: کورنگی کے چرچ میں آگ لگ گئی

آگ پر قابوپانے میں آدھاگھنٹہ لگا، محکمہ فائربریگیڈ
[caption id="attachment_2190089" align="alignnone" width="804"] فوٹو: آن لائن[/caption]

کراچی کے علاقے کورنگی میں واقع مسیحی برادری کی عبادت گاہ میں آگ لگ گئی، جسے آدھے گھنٹے کی جدوجہد کے بعد محکمہ فائر بریگیڈ کے عملے نے بجھادیا، واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

مرکزی فائر بریگیڈ ریکارڈ کے مطابق کورنگی نمبر 3 میں واقع چرچ میں دوپہر ایک بج کر 10 منٹ پر آگ لگی، جسے تقریباً آدھے گھنٹے کی کوشش کے بعد بجھا دیا گیا۔

ایس ایس پی ضلعی کورنگی شاہجہاں خان نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ چرچ ایک چھوٹی سی کرائے کی جگہ پر بنایا گیا تھا، ایک مسیحی جوڑے نے گھر کرائے پر لیا تاہم بعد میں اسے چرچ بنادیا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ مرد خود کو فادر جبکہ خاتون اپنے آپ کو پاسٹر (مذہبی رہنما) کہلوانے لگی تاہم مقامی رہائشیوں نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔

شاہجہاں خان نے مزید کہا کہ مسیحی جوڑے کے مطابق چرچ کو آگ لگائی گئی، انہوں نے اپنے دو پڑوسیوں پر شک کا اظہار کیا، اور ایک کی شناخت سنی کے نام کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے چرچ کو آگ لگائی ہوگی۔

ایس ایس پی کے مطابق مشتبہ شخص نے پولیس کو بتایا کہ اس کی گزشتہ روز چرچ انتظامیہ سے تلخ کلامی ہوئی تھی، جس پر چرچ کو آگ لگا کر اس سے بدلہ لینے کی کوشش کی گئی۔

ایس ایس پی ضلع کورنگی کا کہنا ہے کہ پولیس نے آگ لگنے کی وجوہات جاننے کیلئے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

واقعے سے متعلق مزید تفصیلات کا تبادلہ کرتے ہوئے ایس ایچ او زمان ٹاؤن پولیس اسٹیشن گلزار تنیو کا کہنا ہے کہ مسیحی جوڑے نے کورنگی نمبر 3 میں مدینہ مسجد کے قریب ایک کمرے کا مکان 2 سال قبل کرائے پر حاصل کیا تھا، اس جوڑے کے ساتھ تین بچے دو بیٹے اور ایک بیٹی بھی رہتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مسیحی جوڑے ناصر اور فوزیہ نے بعد ازاں گھر کو چرچ میں تبدیل کردیا اور خود کو پاسٹر (مذہبی پیشوا) ہونے کا دعویٰ کردیا لیکن ان کی برادری نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔

ایس ایچ او کا کہنا ہے کہ مسیحی برادری کے اراکین کا اس حوالے سے جوڑے کے ساتھ تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا اور انہیں کہا گیا کہ وہ پاسٹرز نہیں ہیں۔

گلزار تنیو کے مطابق مدعی اور مشتبہ افراد عیسائی مذہب کے پروٹسٹنٹ فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔

Tabool ads will show in this div