کراچی کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش

ماہی گیروں کو سمندر سے دور رہنے کی ہدایت
Sep 30, 2021

Rain Khi

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/09/Khi-Rain.mp4"][/video]

کراچی کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش شروع ہوگئی جبکہ تیز ہواؤں کے باعث فیرئیر ہال پارک کے قریب بجلی کا پول گاڑی پر گر گیا۔

صدر، ہل پارک، اسٹیڈیم روڈ، کینٹ اور آئی آئی چندريگر روڈ، نیو کراچی، ملیر، گلشن معمار، ڈی ایچ اے اور برنس روڈ سمیت مختلف علاقوں میں بارش شروع ہوگئی۔

بجلی کا پول گرنے کے باعث اطراف کے علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوگئی، اطلاع ملتے ہی کے الیکٹرک کا عملہ اور پولیس موقع پر پہنچ گئے۔ پولیس کے مطابق واقعہ میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بارش کا طاقتور سسٹم سندھ ميں موجود ہے جس سے کراچی میں طوفانی بارشیں ہوں گی۔ میٹ آفس کے مطابق گلاب سمندری طوفان سندھ اور بلوچستان کی ساحلی پٹی کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

میٹ آفس کے مطابق ہوا کا کم دباؤ 30 ستمبر تک طوفان کی شکل اختیار کرے گا۔ طوفان میں شدت آنے کے باعث سندھ اور بلوچستان کی ساحلی پٹی میں شدید بارشیں ہوں گی۔

کراچی کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ اور تیز ہواؤں سے اسٹرکچر کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ ڈائريکٹرميٹ آفس سردار سرفراز کا کہنا ہے کہ مون سون ہوائيں زيادہ شدت سے داخل ہوں گی۔ تيز ہوائيں چليں گی۔ آندھی اور جھکڑ چل سکتے ہيں۔

بارشوں کا سلسلہ آج بروز جمعرات 30 ستمبر کی شام یا رات سے 2 اکتوبر تک جاری رہے گا۔ رپورٹ کے مطابق بھارتی گجرات میں موجود ہوا کا کم دباؤ آج تک بحیرہ عرب پہنچے گا اور شدت اختیار کرتے ہوئے ڈپریشن میں تبدیل ہونے کا امکان ہے۔

اس سسٹم کے نتیجے میں جمعرات سے ہفتے تک کراچی، حیدرآباد، ٹھٹھہ اور دیگر اضلاع میں موسلادھار بارش متوقع ہے۔ تیز بارش کی پیشگوئی کے پیش نظرکراچی، حیدرآباد، بدین ،ٹھٹھہ، میرپور خاص، ٹنڈو محمد خان، دادو اور ٹنڈو الہ یار میں اربن فلڈنگ کا خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ پی ڈی ايم اے سندھ نےالرٹ جاری کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو تيار رہنے کی ہدايت کردی ہے۔

موسمی تجاویز میں کہا گیا ہے کہ موسلا دھار بارشوں سے کمزور اسٹرکچر کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

تعلیمی ادارے

کراچی ميں آج تعليمی ادارے کھلے ہيں۔ جامعہ کراچی کی جانب سے یکم اکتوبر کو ہونے والی کلاسز ملتوی کردی گئی ہیں۔ سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکشن نے آج ہونے والے امتحانات ملتوی کر ديئے۔ ایسوسی ایٹ انجینیرنگ ڈپلومہ کےآج سے لے کر 2 اکتوبر تک تمام امتحانات ملتوی کیے گئے ہیں۔ امتحانات کا نیا شیڈول جاری کردیا گیا، جس کے تحت ملتوی کیے گئے امتحانات 9 ، 11 اور 12 اکتوبر کو ہونگے۔

ماہی گیر

محکمہ موسمیات نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ سمندری حالات خراب رہیں گے اور بہت زیادہ خراب بھی ہوسکتے ہیں۔ ماہی گیروں کو تجویز دی گئی ہے کہ 30 ستمبر سے 3 اکتوبر تک سمندر میں نہ جائیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ طوفان گلاب 2021 کا تیسرا طوفان ہے جس کا نام پاکستان نے تجویز کیا تھا۔

Cyclone Vayu changes course, unlikely to make landfall in Gujarat: IMD -  India News

عملے کی چھٹیاں منسوخ

کراچی میں طوفانی بارشوں کے امکان کے پیش نظر سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی، عملے کو متحرک رہنے اور سڑکوں کے تمام پوائنٹس پر سینیٹری ورکرز تعینات کرنے کیلئے ٹیمیں تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ ایم ڈی زبیر چنہ کا کہنا ہے کہ بارش کے پانی اور کچرے سے متعلق شکایات کا فوری ازالہ یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے ٹیمیں متحرک رہیں گی، عوام سے اپیل ہے کہ شکایات درج کرانے کیلئے شکایتی مراکز ہیڈ آفس کے واٹس ایپ نمبر:03181030851 پر رابطہ کریں۔ اس کے علاوہ شہری اپنی شکایات (ایس ایس ڈبلیو ایم بی کمپلینٹس کراچی) اپلیکیشن ڈاؤن لوڈ کرکے بھی درج کراسکتے ہیں۔

ایئرپورٹ پر ہائی الرٹ

کراچی میں ممکنہ طوفانی بارشوں کے پیشِ نظر سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے کراچی ایئر پورٹ پر الرٹ جاری کر دیا ہے۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے جاری کیئے گئے الرٹ میں کہا گیا ہے کہ چھوٹے طیاروں کو محفوظ جگہ پارک کیا جائے، کسی حادثے سے بچنے کے لیے طیاروں کے ونگز کو بھاری وزن باندھ کر پارک کیا جائے۔ اس کے علاوہ الرٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بارش میں کیڑے مکوڑے ہونے سے پرندوں کی آمد سے جہازوں کو نقصان کا اندیشہ ہے، ایئر پورٹ پر اسپرے کرنے والا عملہ اور برڈ شوٹرز تعینات رکھے جائیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل کراچی میں اگست اور ستمبر میں ہونے والی بارشوں سے جمع ہونے والا پانی تاحال علاقوں سے نہ نکالا جا سکتا۔ شہر کے کئی علاقوں میں اب بھی متعدد سڑکیں کئی کئی فٹ پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔

گزشتہ سال کتنی بارش ہوئی؟

ملک کے سب سے بڑے اور 2 کروڑ کی آبادی والے اس شہر میں گزشتہ سنہ 2020 مون سون کی موسلا دھار بارشوں میں کم از کم 68 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ گزشتہ سال برسنے والے بادلوں نے کئی سالوں کا ریکارڈ بھی توڑا۔

اگست سال 2020 میں 484 ملی میٹر بارش ہوئی جس نے گزشتہ 9 دہائیوں میں ہونے والی بارشوں کا ریکارڈ توڑا تھا۔

محکمہ موسمیات کے تاریخی ڈیٹا کے مطابق اگست 1930میں کراچی شہر میں 12 گھنٹوں کے دوران 223.5 ملی میٹر بارش ہوئی تھی، اسی طرح جولائی 1967 میں مسرور بیس پر 211.3ملی لیٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی، جو کہ نیا ریکارڈ ہے۔ اس سے قبل ایک ہی دن میں اتنی شدید بارشیں نہیں ہوئی تھیں۔

محکمے کی جاری کردہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال کراچی سمیت سندھ بھر میں ہونے والی موسلا دھار بارش معمول سے 148 فیصد زیادہ تھی۔، جب کہ گزشتہ سال ستمبر میں ملک بھر میں 89 فیصد معمول سے زیادہ بارشیں ریکارڈ کی گئیں۔ گزشتہ سال فیصل بیس پر 588 ملی میٹر، مسرور پر 436 اور اور کراچی ایئرپورٹ پر 367ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی۔

شہر کراچی کیلئے صرف مسلسل بارش مسئلہ نہیں بلکہ تیزی سے ہونے والی تعمیرات اور کنکریٹ کے اسٹرکچرز نے اس شہر کی آبی گزر گاہوں میں رکاوٹ پیدا کردی ہے جس سے پانی کا بہاؤ رکنے کے علاوہ دیگر کئی مسائل نے بھی جنم لیا ہے۔ آدھے سے زیادہ شہر کے علاقے مہینوں پانی میں ڈوبے رہتے ہیں، صرف یہ ہی نہیں اتنی بڑی مشینری اور محکموں کے باوجود نکاسی آب اور دیگر صفائی کے مسائل اپنی جگہ موجود ہیں۔