لڑکالڑکی تشددکیس:اصلی ویڈیو تاحال ریکور نہیں ہوئی،وکیل متاثرین

پروگرام سات سے آٹھ میں گفتگو

اسلام آباد میں لڑکا لڑکی تشدد کیس میں متاثرین کے وکیل حسن جاوید شورش کا کہنا ہے کہ واقعہ دراصل ڈیڑھ سے تین گھنٹوں پر مخیط تھا مگر ملزمان سے اصل ویڈیو ریکور نہیں ہوئی ہے۔

سماء کے پروگرام سات سے آٹھ میں گفتگو کرتے ہوئے وکیل حسن جاوید شورش کا کہنا تھا کہ اسلام آباد پولیس اور عدالتوں نے جس طرح اس کیس کو لے کر گئے ہیں اس سے متاثرین کو دل کو اطمینان پہنچا ہے اور ان کو امید ہے کہ کیس میں انصاف ہوگا۔

حسن جاوید کا کہنا تھا کہ مجھے کیس میں کسی قسم کی کوئی دھمکی نہیں ملی نہ متاثرین کو کوئی دھمکی میرے علم میں ہے کیونکہ کیس میں ملوث ملزمان پولیس کے تحویل میں ہے۔

ملزمان کے خود اعتمادی سے متعق انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ کہ ان کی ذہن میں کیا چل رہا ہے مگر کیس میں کسی قسم کی کوئی آفر ہوئی ہے نہ سودہ بازی کی گنجائش نہیں ہے۔

 حسن جاوید کا کہنا تھا کہ ہمیں امید ہے کہ کیس کا فیصلہ قانون کے مطابق ہوگا اور کسی سے کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد کردی گئی ہے اور واقعہ کے رپورٹ ہونے کے پہلے روز سے پولیس تحویل میں ہے لیکن سوسائٹی کو اعتماد دلانے کی ضرورت ہے کہ ملک کا نظام انصاف لوگوں کو انصاف دلانے کےلئے یکسو ہے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد کی مقامی عدالت نے آج منگل کو لڑکا لڑکی تشدد کیس میں مرکزی ملزم عثمان مرزا سمیت 7ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی تھی۔

عثمان مرزا سمیت 7ملزمان ایڈشنل سیشن جج عطاء ربانی کی عدالت میں پیش ہوئے۔ عثمان مرزا کے علاوہ دیگر شریک ملزمان میں عطاالرحمان، ادارس قیوم بٹ، ریحان، عمر بلال مروت، محب بنگش اور فرحان شاہین شامل ہیں۔

عدالت نے تمام ملزمان کو فرد جرم کی کاپیاں پیش کرکے استغاثہ سے آئندہ سماعت پر شہادتیں طلب کرلیں جبکہ کیس کے گواہوں کو بیانات قلمبند کرنے کے لیے نوٹس جاری کر دیا گیا۔

دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس میں شریک 3ملزمان ادارس قیوم بٹ، حافظ عطاالرحمان اور فرحان شاہین کی ضمانتیں خارج کر دیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست ضمانت پر دلائل کے بعد فیصلہ سنایا۔ عدالت نے کیس کا ٹرائل 2ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دیا۔

اس سے قبل پولیس چلان میں عثمان مرزا اور ابرار کو مرکزی قرار دیا گیا تھا جنہوں نے ساتھیوں کے ساتھ نازیبا ویڈیو بنائی اور بلیک میل کر کے بھتہ وصول کیا۔

ملزم عمر بلال نے انکشاف کیا کہ عثمان مرزا کے کہنے پر متاثرہ لڑکا اور لڑکی سے سوا 11لاکھ روپے لیے جس میں سے 6 لاکھ روپے عثمان کو دیے اور باقی رقم دیگر ساتھیوں میں تقسیم کی۔

متاثرین کا مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ بیان بھی چالان کا حصہ بنایا گیا ہے۔ متاثرہ لڑکی کے مطابق عثمان اور اس کے دوست ہمارا مذاق اڑاتے اور ویڈیو بناتے رہے۔

واضح رہے کہ واقعہ 18 نومبر 2020ء کو سیکٹر ای الیون میں پیش آیا تھا جس کی ایف آئی آر 8 ماہ تاخیر سے درج ہوئی، مقدمہ متاثرین نہیں بلکہ ایس ایچ او تھانہ گولڑہ کی شکایت پر 6 جولائی 2021ء کو درج ہوا تھا۔

ISLAMABAD HIGH COURT

islamabad police

Usman Mirza

Tabool ads will show in this div