بادشاہی مسجد کومحکمہ اوقاف سےوالڈ سٹی کےدائرہ کارمیں لانےکا فیصلہ

تاریخی عمارتوں کےتحفظ کے مختلف پراجیکٹس پر پیش رفت کاجائزہ

لاہور میں بادشاہی مسجد کو محکمہ اوقاف سے والڈ سٹی کے دائرہ کار میں لانے کا فیصلہ کيا گيا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارکی زیرصدارت والڈ سٹی آف لاہوراتھارٹی کااجلاس ہوا جس ميں بادشاہی مسجد کومحکمہ اوقاف سےوالڈ سٹی کےدائرہ کارمیں لانےکافیصلہ کيا گيا۔

اجلاس ميں آثارقدیمہ اور تاریخی عمارتوں کے تحفظ کے مختلف پراجیکٹس پر پیش رفت کاجائزہ ليا گيا۔ بھاٹی گیٹ کی تاریخی حیثیت میں بحالی کے منصوبے کی منظوری بھی دی گئی۔

وزيراعلی پنجاب کا کہنا تھا کہ والڈ سٹی بادشاہی مسجد سمیت 10 تاریخی مزارات کی عمارتوں کی تزئین وآرائش کرے گی۔وزیراعلی نے روشنائی گیٹ عوام کیلئےکھولنےکا بھی حکم ديا۔

اجلاس میں ڈی جی والڈ سٹی کامران لاشاری کے کنٹریکٹ میں توسیع کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ لاہور اور آذربائیجان کے تاریخی شہر باکو کو جڑواں شہر قرار دينے کی تقريب نومبرميں ہوگی۔

واضح رہے کہ دو ماہ قبل خطیب بادشاہی مسجد مولانا عبدالخبیر آزاد نے مسجد کسی اور ادارے کے حوالے کرنے سے صاف انکار کرتے ہوئے والڈ سٹی اتھارٹی کو خبردار کیا تھا کہ وہ ان کے معاملات میں دخل اندازی نہ کرے۔مولانا عبدالخبیر آزاد کا کہنا تھا کہ والڈ سٹی اتھارٹی کی پرانی خواہش ہے کہ وہ بادشاہی مسجد پر  قبضہ کرے لیکن ہم مسجد ایسے ہاتھوں میں نہیں دیں گے جو کل کو اس کا غلط استعمال کریں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا تھا کہ ہمیں فنڈزز دیں اور ہم اس کی دیکھ بھال کریں گے۔

خطیب بادشاہی مسجد کا وزیراعظم کا فیصلہ ماننےسےانکار

انہوں نے مزید کہا تھا کہ والڈ سٹی اتھارٹی 10 سال سے ہمارے پیچھے پڑی ہے، اس کے پاس شاہی قلعہ ہے پہلے اس کو تو مکمل کرلے، ہاں اگر کوئی تعمیراتی کام کرنا ہے تو ضرور آئیں لیکن قبضہ لینا چاہتے ہیں تو پھر وہ نہیں ہوسکتا۔

 وزیر اعظم عمران خان نے  12جولائی کو شاہی مسجد کا کنٹرول محکمہ اوقاف سے واپس لے کر والڈ سٹی یا محکمہ سیاحت کو دینے کی ہدایت کی تھی۔ مغلیہ دور کی اس تاریخی مسجد میں 60 ہزار سے زائد افراد کے  نماز ادا کرنے کی گنجائش ہے۔

Badshahi Masjid

Tabool ads will show in this div