نسلاٹاورکیس:مالکان اورالاٹیزکی درخواستيں مسترد،ٹاورگرانے کاحکم برقرار

کمشنر کراچی کو فوری عمل درآمد کا حکم
فائل فوٹو

سپریم کورٹ نے نسلا ٹاور کیس میں مالکان اور الاٹیز کی نظرثانی درخواستيں مسترد کرتے ہوئے 16 جون کے فیصلے پر عمل درآمد کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ رجسٹری کراچی میں جمعرات 23 ستمبر کو نسلا ٹاور کیس سے متعلق دائر مختلف درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ اس موقع پر سپریم کورٹ نے کیس سے متعلق دائر مالکان اور الاٹیز کی نظر ثانی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے کمشنر کراچی نوید احمد شیخ کو 16 جون کے حکم پر عمل درآمد کا حکم دیا۔

سپریم کورٹ کی جانب سے ریمارکس دیئے گئے کہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ 16 جون کو سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے نسلا ٹاور کیس میں رہائشی عمارت کو غیر قانونی قرار دے کر فوری گرانے کا حکم دیا تھا۔

جسٹس اعجاز الاحسن

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے تھے کہ کے ایم سی رپورٹ میں کچھ ایریا غیر قانونی استعمال ہونے کی نشاندہی ہوئی۔ سروس روڈ کو عمارت کا حصہ بنایا گیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ نہ صرف سروس روڈ بلکہ شارع فیصل بھی عمارت کا حصہ ہے۔ آپ کا منصوبہ فٹ پاتھ سے جا کر ملتا ہے۔ بتائیں، شاہراہ قائدین کا سروس روڈ کہاں گیا؟۔ شاہراہ قائدین سے سروس روڈ شارع فیصل تک جا ملتا ہے۔

نسلا ٹاور کے وکیل صلاح الدین

اس موقع پر ٹاور کے وکیل صلاح الدین نے عدالت سے کہا کہ ہماری عمارت سروس روڈ پر ہرگز نہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا نسلا ٹاور کا اوریجنل پلان کہاں ہے؟۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا تصاویر دیکھیں۔ نسلا ٹاور سروس روڈ سے ملا ہوا ہے۔ صلاح الدین احمد نے کہا کہ سروس روڈ ہمارے پلاٹ سے ہی لے کر بنایا گیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے بس آپ اپنی لیز دکھا دیں۔

چیف جسٹس

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ اس تمام تر معاملے کا فرنٹ مین کون ہے؟ ان سب کے پیچھےکون ہے؟ کراچی میں ساری چائنہ کٹنگ اسی طرح ہو رہی ہے۔ زمین کچھ ہوتی ہے، قبضہ اس سے زیادہ کر لیا جاتا ہے۔ 16 جون کو سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ عمارت غیر قانونی ہے، جو گرائی جائے۔ عدالت نے بلڈر اور رہائشیوں کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے نسلا ٹاور کو غیر قانونی قرار دیا۔

NASLA

Tabool ads will show in this div