سپریم کورٹ: منشیات اور اسلحہ اسمگلنگ کی روک تھام کا حکومتی ایکشن پلان مسترد

اسٹاف رپورٹ


کراچی : عدالت عظمیٰ نے منشیات اور اسلحہ اسمگلنگ کی روک تھام کا حکومتی ایکشن پلان مسترد کردیا، چيف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ اے این ایف کے سربراہ یوسف گوٹھ کا نام لینے سے ڈرتے ہیں۔ عدالت نے کراچی پورٹ سے تين سال کے دوران آنے والے اسلحہ کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔ 


سپريم کورٹ نے منشيات اور اسلحہ اسمگلنگ کے خلاف کمر کس لی، اٹارنی جنرل کا ايکشن پلان مسترد کردیا جبکہ آج شام تک نتيجہ مانگ ليا۔


چیف جسٹس افتخار چوہدری کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ امن و امان عمل درآمد کیس کی سماعت کررہا ہے، اٹارنی جنرل نے دوران سماعت اسلحہ، منشیات اور اسمگلنگ کے خلاف ایکشن پلان پیش کیا، جس پر عدالت نے عدم اطمينان ظاہر کيا اور رپورٹ مسترد کردی۔


چيف جسٹس نے ريمارکس دیئے کہ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گيا کہ ملک دشمنوں کو پکڑنے کیلئے کیا کریں گے، ڈی جی اے این ایف یوسف گوٹھ کا نام لیتے ہوئے ڈرتے ہیں، آج شام تک ہر صورت نتیجہ چاہئے، کل بھی کہا تھا جو کام نہیں کرتا گھر بھیج دیں۔


عدالت کا کہنا ہے کہ 100 سے 150 کسٹم اپريزر 20 سے 25 لاکھ روپے رشوت ديکر بھرتی ہوئے، جو ملکی معيشت سے کھيل رہے ہيں، يہ لوگ کام نہیں کریں گے بلکہ پیسے بنائیں گے۔


چيف جسٹس نے کراچی پورٹ سے 3 سال میں آنے والے اسلحہ کی تفصیلات بھی طلب کرليں، ان کا کہنا تھا کہ عدالت کو نتیجہ چاہئے، افراد اور ناموں کی کوئی حیثیت نہیں۔ سماء

اور

کی

کا

اسلام آباد

مسترد

majority

failure

Tabool ads will show in this div