افغانستان: شہری گھریلو سامان فروخت کرنے پر مجبور

افغان شہریوں کو نقدی کے بحران کا سامنا

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں روزگار کی بندش کی وجہ سے شہری خوراک کے حصول کیلئے گھریلو سامان فروخت کرنے پر مجبور ہوگئے۔

عالمی بینک، آئی ایم ایف اور امریکی مرکزی بینک نے طالبان کے افغانستان پر کنٹرول کے بعد افغانستان کی بین الاقوامی فنڈز تک رسائی ختم کردی ہے، جس سے افغان شہریوں کو نقدی کے بحران کا سامنا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق کابل کے چمن حضوری محلے کا علاقہ ریفریجریٹرز، کشن، پنکھے، تکیے، کمبل، چاندی کے برتن، پردے، بستر، گدے اور دیگر گھریلو قیمتی ساز و سامان سے بھرا ہوا ہے، یہ سامان شہری یہاں فروخت کرنے کیلئے لے آتے ہیں تاکہ وہ اپنے خاندانوں کیلئے خوراک حاصل کر سکیں۔

اے ایف پی کے مطابق بازاروں میں کچن کی اشیاء سے لے کر 90 کی دہائی کے ٹی وی سیٹس، پرانی سلائی مشینیں، بستر اور قالین موجود ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بینکنگ کے شعبے سے وابستہ تین ماہرین کا کہنا ہے کہ پیسے کی کمی سے ملک کی پہلے سے تباہ حال معیشت کو مزید تباہی کا خطرہ ہے۔

افغانستان کے بینکوں میں ڈالر ختم ہو رہے ہیں اور اگر طالبان حکومت فنڈز جاری نہیں کرتی تو بینکوں کو اپنے دروازے بند کرنا پڑ سکتے ہیں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں غربت میں مزید 25 فیصد اضافہ ہوگیا ہے،  رپورٹ کے مطابق آئندہ سال کے وسط تک 97 فیصد سے زیادہ آبادی خط غربت سے نیچے جاسکتی ہے۔

UNITED NATION

Tabool ads will show in this div