لاہورمیں ڈیڑھ سال کے بچے کاریپ، اسپتال میں دم توڑگیا،پولیس

والدین کا قانونی کارروائی سے گریز، تحقیقات شروع

لاہور ميں ڈيڑھ سال کے بچے کو ریپ کا نشانہ بنادیا گیا، کمسن کو بیہوشی کی حالت ميں اسپتال لايا گيا جہاں وہ دم توڑ گيا۔ والدین نے قانونی کارروائی سے انکار کردیا۔ پولیس نے ریپ کے شواہد کی بنیاد پر تحقیقات کا آغاز کردیا۔ انسانی حقوق کی رہنماء فرزانہ باری نے ايسے واقعات کی وجہ سزا جزا کا نظام نہ ہونا قرار ديا۔ ترجمان پنجاب حکومت عثمان بسرا کہتے ہيں قانونی کارروائی کیلئے والدين پيچھے ہٹے تو پوليس آگے آئی ہے۔ پولیس کے مطابق لاہور میں صرف ڈیڑھ سال کے بچے کو ریپ کا نشانہ بنادیا گیا، جسے تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکا، ڈیوٹی ڈاکٹرز ریپ کی تصديق کرتے ہوئے پولیس کو اطلاع کردی تاہم والدین قانونی کارروائی سے گریزاں ہیں۔ ایس پی سٹی رضوان طارق کا کہنا ہے کہ مقتول کا بڑا بھائی ایک سال قبل پڑوسی میاں بیوی کی لڑائی میں اینٹ لگنے سے جاں بحق ہوا تھا، ورثاء اس بار بضد ہیں کہ قانونی کارروائی نہ کی جائے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بدفعلی کے شواہد کی بناء پر تفتیش شروع کردی گئی ہے، پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد صورتحال مزید واضح ہوگی۔ سماء سے گفتگو کرتے ہوئے انسانی حقوق کی رہنماء فرزانہ باری نے کہا کہ ایسے واقعات کی مذمت کیلئے الفاظ بھی ختم ہوگئے، سزا جزا کا نظام نہ ہونا ايسے واقعات کی وجہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سزا کا خوف نہ ہونے کے باعث مجرمانہ ذہنیت تیزی سے سماج میں اپنے پنجے گاڑ رہی ہے، اخلاقی گراوٹ اور رياست کی کمزوری کی وجہ سے ايسے واقعات رونما ہوتے ہيں۔ حکومت پنجاب کے ترجمان عثمان بسرا نے کہا کہ والدین کے پیچھے ہٹنے پر ریاست آئی ہے، والدين قانونی کارروائی نہیں کرنا چاہتے، ہم نے پوليس کو غير سياسی کيا ہے جس کی وجہ سے ان کے رويے ميں بہتری آئی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق لاہور میں رواں سال بچوں کے ساتھ بدفعلی کے 85 واقعات رپورٹ ہوئے ہيں، پولیس نے 78 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے، جس ميں سے صرف 15 کا فيصلہ ہوسکا، جبکہ کچھ واقعات ميں فریقین کے درمیان صلح ہوگئی، 63 مقدمات اب بھی عدالتوں میں زیر التواء ہیں۔

Child Rape

Tabool ads will show in this div