سندھ کے جعلی ڈومیسائل پر نوکریاں، وزیراعلیٰ کا تحقیقات کا حکم

ملوث افسران کے خلاف کارروائی ہوگی
Sep 07, 2021
فائل فوٹو
فائل فوٹو
[caption id="attachment_2342689" align="alignright" width="800"] فائل فوٹو[/caption]

وزیراعلیٰ سندھ نے مشکوک قرار دیئے گئے 154 ڈومیسائل کی تحقیقات اور ملوث افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اہم اجلاس آج بروز منگل 7 ستمبر کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہوا۔ اجلاس میں جعلی ڈومیسائل اور پی آرسی بنانے میں ملوث افسران کیخلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس سے خطاب میں وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ کے مختلف اضلاع لاڑکانہ، کشمور، کندھ کوٹ، گھوٹکی اور جام شورو میں انکوائری کی گئی۔ جس سے اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ وفاق اور صوبے کی سطح پر مشکوک ڈومیسائل اور پی آرسی کے ذریعے نوکریاں حاصل کی گئیں۔

اجلاس میں ڈومیسائل کے غلط استعمال سے روکنے پر بھی مشاورت کی گئی، جب کہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے تمام اضلاع کے ڈومیسائل اور پی آر سیز کی60روز میں جانچ پڑتال کی ہدایت بھی کی۔ اجلاس میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق 432 ڈومیسائل اور پی آر سی کی جانچ پڑتال کے دوران 154 ڈومیسائل مشکوک ثابت ہوئے۔

رپورٹ کی روشنی میں وزیراعلی سندھ نے گزشتہ 10 سالوں سے جاری ڈومیسائل کی جانچ پڑتال کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ جو افسران جھوٹے ڈومیسائل اور پی آر سی بنانے میں ملوث ہے اُن کے خلاف کارروائی اور مشکوک 154 ڈومیسائل پر اپیل کا فیصلہ 30 روز میں کیا جائے گا۔

متعلقہ اداروں کو حکم دیتے ہوئے وزیراعلی سندھ نے کہا کہ ڈومیسائل کے غلط استعمال کو ہر صورت روکنا ہے جس کے لئے محکمہ آئی ٹی ڈومیسائل اور پی آر سیز کا ڈیٹا بیس بنائے گا۔

اس موقع پر حکام نے شرکا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر نے ڈومیسائل اور پی آر سی جاری کرنے کیلئے اے ڈی سیز کو اختیار دیا ہے۔ یو سی سیکریٹری نے جو رہائشی سرٹیفکیٹ جاری کئے ہیں وہ بھی ڈیفیکٹڈ ہیں۔ حکام کا مزید کہنا تھا کہ قانون کے حساب سے ڈومیسائل ملک کی شہریت کیلئے جاری ہوتا ہے۔ ڈومیسائل سٹیزن شپ سرٹیفکیٹ ہے۔ ایک مرتبہ ڈومیسائل جاری ہوگیا وہ ہمیشہ رہے گا۔ پی آر سی پی اصل مستقل رہائش کا سرٹیفکیٹ ہے۔

FAKE DEGREE

DOMICILE

Tabool ads will show in this div