کالمز / بلاگ

فاتح پنج شیر قاری فصیح الدین کون ہیں؟

ان کے حصے میں ایک تاریخی اعزازآیا

طالبان میں فاتح شمال کے نام سے مشہور قاری فصیح الدین تاریخ میں پنج شیر کے صوبائی دارالخلافہ بازاراک میں قدم رکھنے والے پہلے طالب رہنما ہیں۔ قاری فصیح الدین امارات اسلامی افغانستان کے ملٹری کمیشن کے نائب کمانڈر ہیں اور ان کا افغانستان کے شمالی حصوں میں طالبان کے قبضے میں اہم کردار رہا جبکہ اب انہیں افغانستان کے اب تک کے واحد ناقابل تسخیر صوبے پنج شیر فتح کرنے کا بھی اعزاز حاصل ہوگیا۔ قاری فصیح الدین تاجک ہیں اور وہ افغانستان کے شمال کی جانب آخری صوبے بدخشاں سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنی کامیاب جنگی حکمت علی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ پندرہ اگست کو طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد سابق افغان نائب صدر امرللہ صالح پنج شیر چلے گئے تھے جہاں انہوں نے مرحوم جہادی کمانڈر احمد شاہ مسعود کے صاحبزادے احمد مسعود کے ساتھ مل کر طالبان کے خلاف مزاحمت کا اعلان کیا تھا۔ مذاکرات کے مختلف دور میں ناکامی کے بعد گزشتہ جمعے کو طالبان نے پنج شیر پر کنٹرول کے لیے بھرپور کارروائی کا اعلان کیا اور چوتھے روز ہی یعنی پیر کو طالبان جنگجوؤں نے قاری فصیح الدین کے سربراہی میں پنج شیر کا کنٹرول سنبھال لیا۔ دوسری جانب کل سے طالبان مزاختمی ملیشیا کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جارہا تھا کہ قاری فصیح الدین پنج شیر لڑائی میں مارے جا چکے ہیں تاہم آج طالبان نے ان اطلاعات کی تردید کرکے ان کی ایک تازہ ویڈیو جاری کردی جس میں انہوں نے ایسی خبروں کو دشمن کا پروپیگنڈا قرار دیا۔ قاری فصیح الدین کو ڈپٹی ملٹری کمیشن کے عہدہ دینا بھی طالبان کی 90 کے دہائی کی حکمت عملی میں تبدیلی قرار دیا جارہا ہے اگرچہ طالبان میں پہلے بھی غیرپختون شامل تھے لیکن ماضی کی نسبت ان کو زیادہ اہم عہدے اور اختیارات دیے جارہے ہیں۔ اگرچہ طالبان کے بارے میں یہ تاثر عام ہیں کہ قیادت سے لے کر نچلی سطح تک اس میں پختونوں کی اکثریت ہے جنہیں صرف افغانستان کے پختون اکثریتی صوبوں میں مقبولیت حاصل ہے تاہم اس بار طالبان نے تاجک، ازبک، ہزارہ اور ترکمان قومیتوں میں بھی اثر و رسوخ بڑھالیا اور قاری فصیح الدین کا شمار بھی ان اہم غیرپختون طالبان رہنماؤں میں ہوتا ہے۔

پنج شیر کی فتح کو اتنی اہمیت کیوں دی جارہی ہے؟

پنج شیر مرحوم احمد شاہ مسعود کا آبائی علاقہ ہے جنہوں نے پہلے سوویت یونین اور بعد میں طالبان کے خلاف اپنے علاقے کا کامیاب دفاع کیا تھا۔ ہندوکش کی برف پوش پہاڑی چوٹیوں کے دامن میں واقع پنج شیر میں سوویت شکست کے آثار اب بھی موجود ہیں روسی فوج نے اس علاقے کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کئی بار فوج کشی کی مگر ہر بار اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ القاعدہ اور طالبان جنگجوؤں سے بیک وقت نمبرد آزما احمد شاہ مسعود نے انتہائی کٹھن حالات میں بھی طالبان کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ میں اس وقت تک مزاحمت کروں گا جب تک میرے پاس میرے سر جتنی جگہ باقی ہوگی۔ احمد شاہ مسعود کو 9 ستمبر 2001 کو افغانستان کے صوبے پنج شیر میں 2 عرب حملہ آوروں نے بم حملے میں موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ طالبان جنگجوؤں کا خیال تھا کہ احمد شاہ مسعود کی موت کے بعد وہ افغانستان پر اپنے ادھورے قبضے کو مکمل کرلیں گے تاہم نائن الیون کے بعد افغانستان پر امریکی حملے کے باعث طالبان کو اقتدار چھوڑنا پڑا اور امریکا شمالی اتحاد کے مدد سے کابل میں متبادل حکومت بنانے میں کامیاب ہوگیا اس طرح پنج شیر احمد شاہ مسعود کی موت کے بعد بھی ناقابل تسخیر ہی رہا۔ خطہ دریاؤں اور ندیوں کے ایک پیچیدہ نظام پر مشتمل ہے جو گھاٹیوں سے گزرتا ہے لہذا وہ جنگ کے دوران ایک بہترین قدرتی پناہ گاہ کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ علاقہ ایک قلعے کی صورت میں ہے جس کے باعث یہ بیرونی حملہ آوروں کے لیے ہمیشہ سے ایک مشکل محاذ ثابت ہوا ہے تاہم اس بار چوں کہ طالبان مخالف ملیشیا کو بیرونی مدد حاصل نہیں تھی اور وادی چاروں طرف سے طالبان جنگجوؤں کے گھیرے میں تھی تو طالبان مخالف ملیشیا زیادہ دن مزاحمت نہ کرسکی تاہم طالبان کے اندرونی خلقے اس میں ذیادہ کریڈٹ قاری فصیح الدین کی کامیاب جنگی حکمت عملی کو دے رہے ہیں جن کو افغانستان کے شمال میں لڑائی کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔

AFGHAN TALIBAN

Panjshir

Tabool ads will show in this div