تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر

اگست میں پاکستان کاتجارتی خسارہ4.2ارب ڈالرکی سطح پرتھا

پاکستان کا تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔

وفاقی ادارہ شماریات کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق اگست میں پاکستان کا تجارتی خسارہ 4.2 ارب ڈالرکی سطح پر تھا جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 144 فیصد زیادہ ہے۔

تجارتی خسارے کا مطلب ہے کہ ملک میں درآمد کی گئی اشیاء اور خدمات پر کی گئی رقم کی ادائیگی برآمدات کی مد میں حاصل ہونے والی رقم  سے زیادہ ہے۔

اگست میں پاکستان کی برآمدات 2020 میں اسی مہینے کے مقابلے میں 41 فیصد بڑھ کر 2.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، لیکن یہ تجارتی توازن کو مثبت حد میں رکھنے کے لیے ناکافی تھی، مالی سال 2022 کے پہلے 2 مہینوں میں تجارتی خسارہ 120 فیصد سے بڑھ کر 7.5 ارب ڈالر یا ملک کی مجموعی پیداوار کا 2.6 فیصد ہو گیا۔

 تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق پاکستان برآمدات کی مد میں کمائے گئے ہر ڈالر کے مقابلے میں درآمدات پر تقریبا 3 ڈالر خرچ کررہا ہے۔رواں سال اگست میں ملکی درآمدات 6.5 ارب ڈالر تھی جو گزشتہ سال اگست کے مقابلے میں 95 فیصد زیادہ ہے۔

 انٹرمارکیٹ سیکیورٹیز کے ہیڈ آف ایکویٹی رضا جعفری کے مطابق پاکستان درآمدات کو اتنی زیادہ رکھنے کا متحمل نہیں ہے۔لیکن یہ ممکن ہے کہ پاکستانی کمپنیوں نے گزشتہ سال مرکزی بینک سے رعایتی فنانسنگ اسکیم لی ہو اور اب اس رقم کا استعمال مشینری درآمد کرنے میں کررہی ہیں جس سے درآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔

 رضا جعفری کا مزید کہنا تھا  کہ مرکزی بینک کے ذخائر ساڑھے 3 ماہ کا درآمدی احاطہ فراہم کرتے ہیں لیکن یہ ضروری ہے کہ اب پاکستان اصلاحات جن میں روپے کی قدر کو گرانا، آئی ایم ایف کا پروگرام پھر سے شروع کرنا شامل ہیں۔ اگر روپے کی قدر کو گرانے سے بھی تجارتی خسارہ کم نہیں ہورہا تو پاکستان کو شرح سود کو بڑھانے کا سوچنا چاہیے۔

جب پی ٹی آئی کا دورِ حکومت شروع ہوا تو اس کے سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک ملک میں ڈالر کے ذخائر کا کم ہونا تھا۔ پہلے 6 ماہ کے دوران حکومت کے پاس موجود ڈالر کے ذخائر اس سطح پر گر رہے تھے جو 2 ماہ کی درآمدی بل ادا کرنے کے لیے بھی کم تھے۔ جبکہ ملک میں کم از کم3 ماہ کی درآمدی ادائیگیوں کو پورا کرنے کے لیے ڈالر کے ذخائر ہونا ضروری ہے۔ تاہم 2019 میں پاکستان کے ذخائر 6 ارب ڈالر سے نیچے گرگئے جس کے بعد پاکستان کو درآمدی ادائیگیوں کے لیے ڈالر کم پڑ گئے تھے  اور ملک ڈیفالٹ ہونے کے قریب تھا۔

 اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وزیر اعظم عمران خان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ 6ارب ڈالر کے بیل آؤٹ معاہدے پر دستخط کیے جوکہ قومی بحث کا موضوع بن گیا۔ اس کے بعد پاکستان نے مالیاتی اداروں جیسے کہ عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے فنڈنگ حاصل کی جس ڈالر کے ذخائر بڑھنے میں مدد ملی۔

ملکی درآمدات زیادہ ہونے کے باعث پاکستان کو آئی ایم ایف سے قرض لینا پڑتا ہے، اس کے برعکس وہ ممالک جو بڑی تعداد میں اشیاء اور خدمات برآمدات کرتے ہیں زیادہ بہتر ہیں۔ ایسے ممالک زیادہ ڈالر کما کر زرمبادلہ کے ذخائر محفوظ سطح پر لے جاتے ہیں۔ اسکے علاوہ ملک میں اشیاء کی پیداوار بڑھنے سے ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور بے روزگاری کی شرح بھی کنٹرول ہوتی ہے۔

Import and Export

trade deficit

IMF program

Tabool ads will show in this div