پنجشیر میں امارت اسلامی افغانستان کامکمل قبضہ ہوچکاہے، طالبان

کوئی انتقامی کارروائی نہیں ہوگی
Sep 06, 2021

Zabihullah Mujahid

ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے اعلان کیا ہے کہ پنج شیر میں امارات اسلامی افغانستان کا مکمل قبضہ ہوچکا ہے اور اللہ کے فضل سے ہمیں پنج شیر میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

کابل میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے طالبان ترجمان نے کہا کہ ہماری عوام مزید جنگ نہیں چاہتی اور امارات اسلامی میں اب جنگ کا دور ختم ہوچکا ہے جبکہ طالبان کی طرف سے اقتدار سنبھالنے کے بعد عام معافی کا اعلان کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنج شیر کے عوام افغانستان کے باسی ہیں اس لیے ان سے کوئی انتقامی کارروائی نہیں ہوگی۔ جنگ کی وجہ سے پنج شیر میں جزوی غذائی قلت ہے۔

ترجمان طالبان نے کہا کہ کابل میں امن و امان قائم ہے کوئی تشویش کی بات نہیں۔ عالمی برادری افغانستان کی تعمیر نو میں حصہ لے کیونکہ افغانستان میں تجارتی سرگرمیاں شروع ہوگئی ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد نے واضح کیا کہ افغانستان میں ہوائی فائرنگ پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے اور ہوائی فائرنگ کرنے پر 80 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ کابل سے دیگر صوبوں میں امدادی سامان اور ادویات بھیجی جا رہی ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ انتظامی امور کا فیصلہ امارات اسلامی افغانستان کی حکومت کرے گی۔ طالبان کا سیکیورٹی فورسز کا یونیفارم متعارف کروایا ہے اور عام آدمی کے اسلحہ رکھنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ حکومت سازی کے لیے مشاورت جاری ہے جلد حکومت کا اعلان کریں گے جبکہ قومی حکومت کی تشکیل میں سب کو شامل کیا جائے گا۔ عام معافی کے اعلان کے بعد کسی کو انتقامی کارروائی میں گرفتار نہیں کیا گیا۔

ترجمان نے کہا کہ ہمسایہ ملک ہونے کے ناطے پاکستان کی تشویش بجا ہے اور پاکستان کو جن معاملات پر تشویش ہے ان کو حل کیا جائے گا، مختلف مسائل کے حل کے لیے پاکستانی وفد افغانستان آیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہماری سرزمین افغانستان سمیت کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ کابل ایئرپورٹ سے پروازوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ افغانستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر اقتصادی سرگرمیوں میں حصہ لینا چاہتا ہے اور سی پیک میں شمولیت کا خواہاں ہے لیکن افغانستان کے اصل مالک افغان عوام ہیں اس لیے حکومت کے قیام تک شہری ہمارے ساتھ تعاون کریں۔

ترجمان ذبیح اللہ مجاہد امارات اسلامی افغانستان میں خواتین حقوق پر خصوصی توجہ دی جائے گی جبکہ کاسا گیس پائپ لائن منصوبہ بھی پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔

اس سے قبل رات بھر پنجشير اور گردونواح ميں طالبان اور شمالی اتحاد فورسز ميں بھرپور جنگ ہوئی۔

شمالی اتحاد کے اعلیٰ کمانڈر گل حيدر خان، منيب اميری اور جنرل ودود مارے گئے جبکہ احمد مسعود کا بھتيجا بھی ہلاک ہوا۔ ترجمان شمالی اتحاد فورسز فہیم دشتی بھی طالبان سے لڑائی ميں ہلاک ہوگئے۔

دوسری جانب شمالی اتحاد نے طالبان کے ہاتھوں مکمل شکست کی ترديد کی ہے۔ اس سے پہلے کمانڈر احمد مسعود طالبان سے بات کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

کابل ميں امارت اسلاميہ کے نائب امير ملا عبدالغنی برادر نے انڈر سيکريٹری اقوام متحدہ انسانی امور مارٹن گريفتھس سے وزارت خارجہ ميں ملاقات کی ہے۔ اس موقع پر اقوام متحدہ نے افغانستان کے ليے امداد جاری رکھنے کا وعدہ کيا۔

TALIBAN

Panjshir

Tabool ads will show in this div