والدین تحفظ آرڈیننس کے تحت گرفتار بیٹا ضمانت پر رہا

جھوٹی کارروائی کرکے جیل بھیجا گیا، بیٹا

مظفرگڑھ میں والدین تحفظ آرڈیننس کے تحت پہلی کارروائی ميں گرفتار بیٹا ضمانت پر رہا ہوگيا۔

ملزم مختیار حسین کا کہنا ہے کہ والدين نے الزام لگا کر جھوٹی کارروائی کروائی اور ڈپٹی کمشنر نے بغير انکوائری کے ہی جيل بھيج ديا۔

مختیار حسین کے مطابق والدین سے کئی مرتبہ معافی بھی مانگی اور اب بھی معافی مانگنے کو تیار ہو ليکن وہ ميری بات نہيں سن رہے۔ ڈپٹی کمشنر کے فیصلے کے بعد میرے پاس کچھ نہیں رہا اور اب کرایہ پر رہ رہا ہوں۔

بیٹے کے مطابق والدین نے میری بیوی کو 3مرلہ زمین اپنی مرضی سے دی تھی اور اسی بات پر جھگڑے ہوا تھا جس پر وہ گھر خود چھوڑ کر گئے، کسی نے نکالا نہيں۔ وکيل کے کہنے پر والدين نے ڈی سی کو ميرے خلاف شکایت کی۔

مختیار کی اہلیہ کے مطابق یہ زمین اس کے سسر نے حق مہر میں گفٹ کی تھی لیکن اب وہ زمین نہیں دینا چاہتے اور ہمارے خلاف تھانوں میں جھوٹی درخواستیں دینے کا سلسلہ جاری ہے۔ جھوٹی درخواست ڈی سی کو دیکر ایک ماہ قید اور 50 ہزار جرمانہ کرا دیا۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے  والدین اور بیٹے کو صلح صفائی کا کئی بار موقع دیا مگر والدین راضی نا ہوئے۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل احسان الحق کا کہنا تھا کہ والدین کو بڑھاپے کی عمر میں یا عام حالات میں بھی بچے برا سلوک کرکے گھر سے نکال دیتے ہیں اور اسی طرح کا معاملہ ہمارے پاس بھی آیا۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل نے بتایا کہ ڈی سی مظفرگڑھ کے پاس والدین نے درخواست دی کہ 8مرلے پر انکا گھر ہے اور انکے بچے نے بہت بدتمیزی کی اور لوگوں سے تشدد کروایا۔ ڈپٹی کمشنر نے دونوں پارٹیوں کا موقف بھی سنا اور صلح کے لیے وقت دیا لیکن جب وہ صلح کی طرف نہیں آئے تو انہیں نئے آرڈیننس کے تحت سزا سنائی۔

انہوں نے بتایا کہ انکے بیٹے کو ایک ماہ قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ ایس ایچ او کو حکم دیا کہ انکا گھر دلایا جائے اور والدین بہت خوش ہیں۔

والدین کے مطابق ڈپٹی کمشنر کو ہم نے درخواست دی ہمارے بیٹے کو بلایا گیا، ہم بھی گئے۔ شکر ہے ہمیں گھر مل گیا اور بیٹے کے خلاف کارروائی ہوگئی ہے۔

MUZAFFARGARH

Tabool ads will show in this div