پنج شیر کا 90 فیصد حصہ طالبان کے کنٹرول میں آگیا

علاقے میں لڑائی اب بھی جاری ہے،امراللہ صالح کا دعویٰ

طالبان کا کہنا ہے کہ انہوں نے پنج شیر میں مخالف ملیشیا کے متعدد کمانڈروں کے ہتھیار ڈالنے کے بعد فی الحال جنگ روک دی ہے اور اب تک وہاں کا 90 فیصد حصہ ان کے کنٹرول میں آچکا ہے۔ تاہم مزاحمتی گروپ کے ایک اہم رہنما امراللہ صالح کے مطابق پنج شیر میں اس وقت بھی شدید لڑائی جاری ہے۔ افغانستان سے موصولہ اطلاعات کے مطابق طالبان نے پنج شير کے سب سے بڑے ضلع پريان کا کنٹرول بھی حاصل کرلیا ہے۔ پنج شیر میں اس وقت کچھ مزاحمت کاروں کی جانب سے ممکنہ حملوں کے پیش نظر طالبان نے ایسے عناصر کو ڈھونڈ نکالنے کے لیے سرچ آپریشن جاری رکھا ہوا ہے۔ طالبان کی جانب سے جمعہ کو فیصلہ کن لڑائی کا اعلان کیا گیا تھا جس کے بعد صبح سويرے طالبان نے مشاورتی اجلاس کے بعد پنج شیر ندی کو عبور کرليا تھا تاہم شام کو ان کی جانب سے لڑائی روکنے کا دعویٰ کیا گیا۔ آج دن بھر شدید لڑائی میں طالبان نے گورنر پنج شیر کے داماد سمیت 34 مخالف جنگجوؤں کو مارنے کا دعویٰ کیا تھا جن میں 4 اہم کمانڈرز بھی شامل تھے۔ دریں اثناء افغانستان کے سابق نائب صدر اور پنج شیر کے مزاحمتی گروپ کے رہنما امر اللہ صالح کے تاجکستان فرار ہونے کی اطلاعات بھی گردش کر رہی تھیں تاہم اپنے ایک ویڈیو بیان نے اانہوں نے ملک چھوڑنے سمیت لڑائی رکنے کی تردید کی ہے۔ افغان ٹی وی طلوع نیوز کے مطابق امراللہ صالح کا کہنا ہے کہ انہوں نے ملک نہیں چھوڑا اور اس وقت پنج شیر میں ہی موجود ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پنج شیر میں لڑائی میں شدت آگئی ہے۔ امراللہ صالح نے بتایا کہ طالبان نے محاصرہ کرکے پنج شیرکے راستے بند کردیے ہیں لہٰذا اقوام متحدہ اور عالمی رہنما علاقے تک رسائی روک دینے والے طالبان کے اس اقدام کا نوٹس لیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ طالبان نے علاقے میں پانی اور بجلی بھی بند کردی ہے جبکہ ادویات کی سپلائی بھی منقطع ہے۔

دوسری جانب طالبان کا کہنا ہے کہ پنج شیر میں مخالف ملیشیا کے لوگ ہتھیار ڈال رہے ہیں اور وہاں سے فتح کی خبریں آرہی ہیں۔ دوسری جانب کابل میں خوشی کے طور پر شدید ہوائی فائرنگ کیے جانے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

AFGHAN TALIBAN

Panjshir

Tabool ads will show in this div