پنجاب سندھ بلدیاتی انتخابات،الیکشن کمیشن کی التوا کی درخواست تیار

Nov 30, -0001

اسٹاف رپورٹ


اسلام آباد : الیکشن کمیشن نے پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے التواء سے متعلق درخواست تیار کرلی، درخواست جلد سپریم کورٹ میں جمع کرائی جائے گی جبکہ بلوچستان میں 7 ہزار 78 جنرل وارڈ نشستوں پر پرانے انتخابی نشانات پر ہی بلدیاتی انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔


الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ میں جمع کرانے کیلئے ایک متفرق درخواست تیار کر لی گئی ہے۔


ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق قوانین ابھی تک مکمل نہیں ہوئے اور نہ ہی دونوں صوبوں میں حلقہ بندیوں کا حتمی نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے، یوں قانونی طور پر بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری نہیں ہو سکتا۔


درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سرکاری پرنٹنگ پریس نے بیلٹ پیپرز کیلئے 4 ماہ پی سی آئی آر سی نے بھی مقناطیسی سیاہی کے پیڈز کیلئے 2 ماہ کا وقت مانگا ہے۔


ذرائع نے بتایا ہے کہ الیکشن کمیشن پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے لئے آئندہ برس فروری تک کا وقت مانگے گا۔


ادھر الیکشن کمیشن سے جاری اعلامیہ کے مطابق بلوچستان میں 7 ہزار 78 جنرل وارڈ نشستوں پر براہ راست پولنگ ہوگی، ایک یونین کونسل میں کم از کم 7 اور زیادہ سے زیادہ 15 وارڈز ہوں گے، دیہی علاقوں میں یونین کونسل جبکہ شہروں میں میونسپل کمیٹی وارڈز پر مشتمل ہوگی، کوئٹہ کو میٹرو پولیٹین کارپوریشن، قلعہ عبداللہ اور کیچ کو میونسپل کارپوریشن کا درجہ ملے گا۔


الیکشن کمیشن کے مطابق بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات پرانے انتخابی نشانات پر کرانے کا فیصلہ انتخابات جماعتی بنیادوں پر کرانے کے باعث کیا گیا ہے کہ سیاسی جماعتیں عام انتخابات والے انتخابی نشان استعمال کریں گی، ن لیگ شیر، پیپلز پارٹی تیر پر، ق لیگ سائیکل، تحریک انصاف بلا، جماعت اسلامی ترازو  اور جے یو آئی ف کتاب کے انتخابی نشان پر بلدیاتی انتخاب میں حصہ لے گی۔ سماء

کی

transport

سندھ

درخواست

paypal

sector

lost

suarez

Tabool ads will show in this div