مذاکرات بے نتیجہ، پنج شیر کے عوام کو طالبان کا پیغام

مذاکرات و جنگ دونوں کیلئے تیار ہیں،مزاحتمی گروپ

طالبان نے پنج شیر کے عوام کے نام جاری پیغام میں کہا ہے کہ وہ اپنے علاقے سے شرپسند عناصر کو نکال کر طالبان کی حمایت کریں۔

طالبان کے دعوت و رہنمائی کمیشن کے سربراہ امیرخان متقی نے اپنے ایک تازہ پیغام میں کہا ہے ملک کے نئے نظام میں پنج شیر سمیت تمام فریقین کے نمائندوں کو شامل کیا جائے گا۔ امیرخان متقی کا کہنا تھا کہ اس وقت پورے ملک میں کہیں بھی جنگ نہیں اور لوگ امن سے رہ رہے ہیں تو پنج شیر کے لوگوں کا بھی حق ہے کہ وہ سکون کی زندگی گزاریں۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے کچھ دنوں سے پنج شیر مزاحمتی گروپ سے مذاکرت چل رہے تھے تاہم اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ امیرخان متقی کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے کابل سمیت بڑے شہروں میں کسی قسم کی مزاحمت نہیں کی وہ پنج شیر کے چھوٹے سے خطے میں بھی جنگ سے باز رہیں۔ واضح رہے کہ پنج شیر افغانستان کے 34 صوبوں میں سے واحد صوبہ ہے جو اب تک طالبان کے کنٹرول سے باہر ہے۔ سابق افغان جہادی کمانڈر احمد شاہ مسعود کے بیٹے اور سابق حکومت کے نائب صدر امراللہ صالح اس وقت پنج شیر میں موجود ہیں جہاں انہوں نے طالبان کے سامنے تسلیم ہونے سے انکار کردیا ہے۔ طالبان مخالف اس گروپ کے پاس ہزاروں جنگجو موجود ہیں جن کے سربراہ احمد مسعود کا کہنا ہے طالبان کے ساتھ مذاکرات اور جنگ دونوں کے لیے تیار ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس مزاحمتی گروپ میں افغان آرمی کے افسران و اہلکاروں کی بھی ایک معقول تعداد موجود ہے جو اسی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ سابق آرمی چیف ہیبت اللہ بھی گو پنج شیر کے نہیں لیکن یہں کے مزاحمتی گروپ کا حصہ ہیں۔ انہیں صدر اشرف غنی کی حکومت کے آخری ایام میں فوج کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔

AFGHAN TALIBAN

Panjshir

Tabool ads will show in this div